ہندوستان

تعلیم اور علاج میں تعاون بھی ایصالِ ثواب کا ذریعہ: مولانا سید رضا حیدر زیدی

لکھنؤ، شاہی آصفی مسجد میں حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفران مآبؒ لکھنؤ، کی اقتدا میں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقویٰ، معرفتِ توحید، ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کے علمی و اخلاقی اسلوب اور توحید کے عملی تقاضوں پر روشنی ڈالی۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے اعلان کیا کہ خطبۂ غدیریہ کے سلسلے کے بعد اب ’’توحید‘‘ کے موضوع پر نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے، جس میں توحید کی معرفت کے ذرائع اور ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ کے اقرار کے بعد انسان کی ذمہ داریوں کو موضوع بنایا جائے گا۔ انہوں نے ’’توحیدِ مفضل‘‘ کے حوالے سے امام جعفر صادق علیہ السلام کے علمی و اخلاقی اسلوب، تحمل اور مخالفین سے حکمت کے ساتھ گفتگو کو نمایاں کیا۔

انہوں نے کہا کہ توحید محض نظری عقیدہ نہیں بلکہ عملی زندگی سے وابستہ ذمہ داری بھی ہے اور پیروانِ اہل بیت علیہم السلام کو ائمہ معصومین علیہم السلام کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے۔ امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو توحید کے تحفظ کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے انہوں نے صحیح معرفتِ توحید اور اس کے عملی تقاضوں پر زور دیا۔

دوسرے خطبہ میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے نیکی کو معاشرتی ضرورتوں سے جوڑنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آج تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات میں ضرورت مندوں کی مدد بھی ایصالِ ثواب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے مستحق بچوں کی تعلیمی فیس اور مریضوں کے علاج میں تعاون کی مثالیں پیش کیں۔

عالمی حالات، مشرق وسطی کی صورتِ حال اور مظلومین کے حوالے سے انہوں نے باہمی اتحاد، انسانی ہمدردی اور ظلم کے مقابلے میں اخلاقی ذمہ داری ادا کرنے پر زور دیا۔ خطبہ کے اختتام پر مظلومین کی نصرت، بیماروں کی شفا، مرحومین کی مغفرت اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button