افغانستان

طالبان کی غیر قانونی مداخلت اور قبضہ کے خلاف احتجاج

کابل میں نجی یونیورسٹی ’دعوت‘ کے بانیان اور انتظامیہ نے ایک رسمی بیان میں اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹی کی تمام تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔

یہ فیصلہ طالبان حکومت کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے یونیورسٹی پر قبضہ اور یکطرفہ طور پر نئی قیادت مقرر کرنے کے اقدام کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔

افغان روزنامہ ’’8 صبح‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تقرری یونیورسٹی انتظامیہ کی مشاورت اور رضامندی کے بغیر، اور کسی شرعی، قانونی و انتظامی جواز کے بغیر کی گئی ہے، لہٰذا نئی تعینات کردہ انتظامیہ کی کوئی مشروعیت نہیں ہے۔

اسی بنا پر یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اس کی قانونی حیثیت کا تعین نہیں ہو جاتا، تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

یہ غیر قانونی مداخلت ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ اس سے قبل بھی طالبان کی جانب سے کابل میں نجی یونیورسٹی ’خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ کی تعلیمی سرگرمیوں کو روک دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button