سوشل میڈیا پر دین کی آڑ میں فراڈ اور کاروبار سے متعلق انتباہ؛ دعا کے لئے لاکھوں اور ڈالرز میں قیمت مقرر کرنا اور جھوٹے دعوے

سوشل میڈیا پر تعویذ نویسی اور بخت کشائی کے نام پر ناجائز منافع خوری کی سرگرمیوں میں اضافہ، عوام کے عقائد اور معاشی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔
کچھ مدعیان نے جعلی اور خودساختہ القاب اختیار کر کے ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز بنا رکھے ہیں، جو لاکھوں روپے اور ڈالر و یورو کی صورت میں رقوم وصول کر کے خاندانی اور طبی مسائل حل کرنے کے جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور معاشرے کے دینی عقائد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اس حوالے سے ہمارے ساتھی نے ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے مل کر دیکھتے ہیں:
حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعہ توہم پرستی اور ناجائز منافع خوری پر مبنی رویے ایک نئی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
کچھ افراد عوامی عقائد سے کھلواڑ کرتے ہوئے اور بے بنیاد دعووں کو فروغ دے کر "دعا کی تجارت” کے نام پر کاروبار چلا رہے ہیں اور سادہ لوح افراد کا اعتماد جیت کر ان سے مشکلات کے حل کے نام پر بھاری رقوم وصول کر رہے ہیں۔
روزنامہ "ہمشہری” کی رپورٹ کے مطابق، ایک شخص "حضرت استاد” اور "حاج فردوسی” جیسے خودساختہ القاب کے ساتھ اپنی ویب سائٹ اور رابطہ چینلز پر ہر قسم کی بیماریوں کے علاج، بخت کشائی اور رزق میں اضافہ کا دعویدار ہے اور اپنی مبینہ خدمات کے لئے باقاعدہ قیمت مقرر کر رکھی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق گناہوں کی بخشش اور دو ماہ کی حفاظت کی دعا کا نرخ 10 لاکھ تومان اور ملازمت ملنے، قرض کی وصولی اور محبت پیدا کرنے کی دعا کا نرخ 20 لاکھ تومان بتایا گیا ہے۔
اسی طرح بیماری سے نجات اور شادی کے لئے 30 سے 40 لاکھ تومان، اور اولاد کے حصول یا "جفتِ روحی” جیسے خودساختہ عنوانات کے لئے 70 لاکھ تومان قیمت مقرر کی گئی ہے، جو بیرون ملک مقیم افراد سے ڈالر اور یورو میں وصول کی جاتی ہے۔
"سہام نیوز” سمیت میڈیا اور خبری چینلز کی رپورٹس کے مطابق، اس قسم کے توہم پرستانہ طریقوں کے عام ہونے پر ماہرین کی جانب سے توہم پرستی اور دین میں بدعت کے فروغ پر شدید تنقید اور خبردار کیا جا رہا ہے۔
سماجی امور کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان مدعیان کا سدباب نہ کرنے کی صورت میں کم معلومات رکھنے والے شہری مزید الجھن کا شکار ہوں گے، خاندانوں کی بنیادیں متاثر ہوں گی اور ضرورت مند طبقے کا بڑے پیمانے پر مالی استحصال ہوگا۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس طرح کے جدید کاروبار کا دین کی عالی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ عوام کی دولت لوٹنے اور اصیل مذہبی عقائد کے چہرے کو مسخ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
قرآن کریم کی روشن تعلیمات اور اہل بیت علیہم السلام کی متواتر روایات کی رو سے، قرآن کریم اور سیرت معصومین علیہم السلام سے تمسک ہی توسل، دعا اور حاجت روائی کا واحد معیار اور درست راستہ ہے اور اس نورانی دائرے سے باہر ہر دعویٰ، ہر طریقہ اور ہر بدعت باطل اور ناقابل قبول ہے۔




