اربعینِ نبوی؛ شہادت فاطمی، مدینہ کا خاموش سوال
8 ربیع الثانی؛ شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
اربعینِ نبوی؛ شہادت فاطمی، مدینہ کا خاموش سوال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کا غم ابھی مدینہ کے دل سے اترا بھی نہ تھا کہ ایک روایت کے مطابق 8 ربیع الثانی 11 ہجری کو بضعۃ المصطفیٰ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت نے اہل بیت علیہم السلام کے غم کو اور گہرا کردیا۔ ایک طرف بابا کی جدائی کا ناقابلِ بیان درد، دوسری طرف بدلتے ہوئے حالات اور اہل بیت علیہم السلام کے حقوق سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل؛ مگر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے غم کو خاموشی نہیں بننے دیا۔
خطبۂ فدک اسی فاطمی بصیرت اور حق گوئی کی روشن علامت ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے قرآن و سنت کی روشنی میں اپنا موقف پیش کیا اور امت کو اس کی دینی و اجتماعی ذمہ داری یاد دلائی۔ ان کا احتجاج کسی ذاتی مفاد کی صدا نہیں، بلکہ حق، عدل اور اہل بیت علیہم السلام کے مقام کی گواہی بن کر تاریخ میں محفوظ ہوا۔
پھر وہ وقت آیا جب مدینہ نے ایک اور جنازہ دیکھا؛ مگر یہ جنازہ رات کی تاریکی میں اٹھا، اور قبر کا مقام بھی تاریخ کے لئے ایک سوال بن گیا۔ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے اپنی شریکۂ حیات کو کھویا، حسنین کریمین علیہما السلام نے اپنی ماں کو اور زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہما نے اپنی مادرِ گرامی کو۔ ایک گھر اجڑا، مگر اس گھر کی آواز تاریخ میں باقی رہ گئی۔
فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی صرف مصائب کی داستان نہیں؛ یہ عبادت، بصیرت، حیا، حق گوئی اور استقامت کا روشن باب ہے۔ ان کا غم آنسوؤں تک محدود نہیں رہا، بلکہ حق کی گواہی بن گیا۔ یہی فاطمی کردار آگے چل کر حسنی صبر، حسینی قیام اور زینبی استقامت میں جلوہ گر ہوا۔
شہادتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا غم صرف ماضی کا نوحہ نہیں؛ یہ ہر دور کے انسان سے ایک سوال ہے: جب حق کمزور دکھائی دے تو ہمارا موقف کیا ہوگا؟ جب تاریخ خاموش ہوجائے تو کیا ہم حق کی گواہی دیں گے؟
اربعینِ نبوی کے اس فاطمی المیے میں ایک بیٹی اپنے بابا کے فراق کے بعد ان سے جا ملی، مگر اپنے پیچھے ایسا پیغام چھوڑ گئی جو آج بھی دلوں کو رلاتا، ضمیروں کو جگاتا اور اہلِ حق کو استقامت کا درس دیتا ہے۔
سلام ہو زہرا سلام اللہ علیہا پر؛ جن کی مظلومیت آنکھوں کو اشک بار، جن کی بصیرت دلوں کو بیدار اور جن کی حق گوئی تاریخ کے ماتھے پر ایک دائمی سوال بن گئی۔
السلام علیکِ یا فاطمة الزہراء، یا بنت رسول اللہ، یا زوجة ولی اللہ، یا أم الحسن والحسین سلام اللہ علیہم۔




