شیعہ مرجعیت

مدینہ سے کربلا تک؛ اربعین کی پیادہ روی، استقامت، قربانی اور وفاداری کی لازوال داستان

مدینہ سے کربلا تک؛ اربعین کی پیادہ روی، استقامت، قربانی اور وفاداری کی لازوال داستان

زیارتِ اربعین محض ایک مذہبی روایت نہیں، بلکہ پیغامِ عاشورا سے وفاداری، ظلم کے خلاف استقامت اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے عشق کی ایک روشن تاریخ ہے۔

اولین زائر سے لے کر راہِ زیارت میں جان نچھاور کرنے والوں تک، یہ مقدس سفر ہر دور کے ظلم و جبر کے سامنے ثابت قدم رہا ہے اور آج دنیا کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماع کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

اربعین کی پیادہ روی (مشیِ اربعین) کی تاریخ واقعۂ عاشورا کے پہلے اربعین سے جا ملتی ہے۔

جب حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اور عطیہ عوفی مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے چالیسویں روز کربلا پہنچے۔

متعدد تاریخی روایات کے مطابق، اسی روز اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کا قافلہ بھی کربلا واپس آیا اور روضۂ امام حسین علیہ السلام پر حاضری دے کر اپنے عزیزوں کے غم میں عزاداری کی۔

اسی وقت سے زیارتِ اربعین، قیامِ عاشورا سے وفاداری اور حق و عدالت کے عہد کی علامت بن گئی۔

یہ عظیم روایت ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کے زمانے سے شیعہ معاشرے میں جاری رہی، لیکن مختلف ادوار میں ظالم حکمرانوں نے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی۔

عباسی خلیفہ متوکل نے زائرین کو خوف زدہ کرنے اور زیارت کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے سخت پابندیاں عائد کیں اور روضۂ امام حسین علیہ السلام کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی، مگر ان تمام مظالم کے باوجود عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے اور زیارت کا سلسلہ جاری رکھا۔

دور حاضر میں بھی صدام حسین کی بعثی حکومت نے زیارتِ اربعین پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

1974ء کے بعد عزاداری اور پیادہ روی میں شرکت کو جرم قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں بے شمار زائرین گرفتار، تشدد کا نشانہ یا شہید ہوئے۔

اس دور میں زائرین شناخت سے بچنے کے لیے کھیتوں اور نخلستانوں کے راستے سفر کرتے تھے، جبکہ عراقی مؤمنین انتہائی احتیاط کے ساتھ انہیں پانی، غذا اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرتے تھے۔

بعض راستوں پر بعثی اہلکار اور نشانہ باز بھی تعینات رہتے تھے تاکہ زائرین کو خوف زدہ کیا جا سکے۔

تاہم ظلم و جبر کا یہ سلسلہ زیارتِ اربعین کے جذبے کو کمزور نہ کر سکا۔

بعثی حکومت کے خاتمے کے بعد اربعین کی پیادہ روی دنیا کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماع میں تبدیل ہو گئی۔

آج دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں بلکہ کروڑوں عاشقانِ امام حسین علیہ السلام کربلائے معلیٰ کی جانب پیدل سفر کرتے ہیں اور وفاداری، ایثار، اخوت اور عشقِ حسینی کی اس عظیم روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button