21 محرم الحرام؛ وفات علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کا علمی سرمایہ صدیوں تک امت کی فکری و دینی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ انہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں شیخ جمال الدین ابو منصور حسن بن یوسف بن علی بن مطہر حلّیؒ، المعروف علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ کا نام نہایت درخشاں ہے۔ آپ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کے عظیم شیعہ فقیہ، متکلم، مفسر، محدث، فلسفی، منطقی اور ماہرِ علمِ رجال تھے۔ آپ کی گراں قدر تصانیف نے فقہِ امامیہ کو نئی وسعت عطا کی، استدلالی فقہ کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں اور شیعہ علمی روایت کو ایک نئی جہت بخشی۔
ولادت اور ابتدائی تعلیم
علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ 29 رمضان المبارک 648 ہجری کو عراق کے تاریخی اور علمی شہر حلہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد علامہ شیخ سدید الدین یوسف حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ اپنے عہد کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے، جن کی نگرانی میں علامہ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے کم عمری ہی سے غیر معمولی ذہانت، شوقِ علم اور محنت کا مظاہرہ کیا، یہاں تک کہ سنِ بلوغ سے قبل ہی ابتدائی علوم میں کمال حاصل کر لیا اور بعد ازاں منصبِ اجتہاد پر فائز ہوئے۔
آپ نے فقہ و اصول اپنے ماموں، محقق حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ سے حاصل کئے، جبکہ فلسفہ، منطق، ہیئت اور ریاضیات میں خواجہ نصیر الدین طوسی رحمۃ اللہ علیہ سے استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ سید رضی الدین علی بن طاؤوس رحمۃ اللہ علیہ، سید احمد بن طاؤوس رحمۃ اللہ علیہ، ابن میثم بحرانی رحمۃ اللہ علیہ، شمس الدین کیشی رحمۃ اللہ علیہ، نجم الدین کاتبی قزوینی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر جلیل القدر علماء رضوان اللہ تعالی علیہم سے بھی کسبِ فیض کیا۔
تدریس اور علمی تربیت
تعلیم کی تکمیل کے بعد علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ نے تدریس کا آغاز کیا اور ایک عظیم علمی مدرسہ قائم کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق آپ کے حلقۂ درس سے تقریباً پانچ سو مجتہد تیار ہوئے۔ آپ کے ممتاز شاگردوں میں فخر المحققین رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے فرزند)، قطب الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ، عمید الدین حسینی حلّی رحمۃ اللہ علیہ، تاج الدین محمد رازی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر علماء شامل ہیں، جنہوں نے بعد میں علومِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
علمی خدمات اور اجتہادی کارنامے
علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ کی سب سے نمایاں علمی خدمت فقہِ امامیہ کو ایک مضبوط استدلالی اور منظم علمی نظام فراہم کرنا ہے۔ آپ نے اجتہادی فقہ کو فروغ دیا، فقہی اصولوں کو مستحکم کیا اور مختلف فقہی مسائل پر نہایت عمیق، تحقیقی اور مدلل انداز میں گفتگو کی۔
علمِ حدیث میں بھی آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ شیعہ حدیثی ذخیرے میں احادیث کی صحیح، حسن، موثق اور ضعیف کی درجہ بندی کو باقاعدہ علمی بنیادوں پر رائج کرنے کا اعزاز بھی آپ ہی کو حاصل ہے، جسے بعد کے تمام فقہاء نے قبول کیا۔
علمِ کلام میں بھی آپ نے توحید، نبوت، امامت، عدل اور معاد جیسے بنیادی اعتقادی مسائل کو مضبوط عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کا مؤثر دفاع کیا۔
تصنیفات و تالیفات
علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی نہایت کثیر التصنیف عالم تھے۔ ان کی تقریباً ایک سو سے ایک سو بیس کتابیں معروف ہیں۔ آپ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے مختلف علمی درجات کے طلبہ کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے الگ الگ سطح کی کتابیں تصنیف کیں، جو ان کی علمی بصیرت، تدریسی مہارت اور فکری وسعت کا واضح ثبوت ہیں۔
آپ کی نمایاں تصانیف میں تذکرۃ الفقہاء، مختلف الشیعہ، منتہی المطلب، قواعد الاحکام، تحریر الاحکام، تبصرۃ المتعلمین، ارشاد الاذہان، نہج الحق، کشف المراد، کشف الیقین، منہاج الکرامۃ، تہذیب الوصول، مبادی الوصول، خلاصۃ الاقوال، رجال العلامہ اور باب حادی عشر سمیت متعدد علمی شاہکار شامل ہیں۔
یہ تمام کتابیں آج بھی دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور اسلامی جامعات میں بنیادی مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔
سلطان محمد خدابندہ پر اثر
علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ کی زندگی کا ایک اہم باب سلطان محمد خدابندہ (الجایتو) سے وابستہ ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق ایک علمی مناظرے میں علامہ نے نہایت حکمت، استدلال اور حاضر جوابی کے ساتھ اہلِ سنت علماء کے اعتراضات کے مدلل جوابات دیے۔ اس علمی مجلس کے بعد سلطان آپ کے علم، کردار اور استدلال سے بے حد متاثر ہوا اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کو اختیار کر لیا۔
سلطان کی خواہش پر علامہ کئی برس ایران میں مقیم رہے، جہاں انہوں نے تدریس، مناظروں، علمی مباحث اور تبلیغ کے ذریعے مکتبِ تشیع کی اشاعت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
علماء کی نظر میں
علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ کی علمی عظمت کا اعتراف صرف شیعہ علماء ہی نے نہیں بلکہ اہلِ سنت کے متعدد نامور علماء نے بھی کیا ہے۔
علامہ سید مصطفیٰ تفرشی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی تعریف کو اپنی استطاعت سے بالاتر قرار دیا، محدث نوری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو علوم کا بے کنار سمندر، دین کا محافظ اور آیۃ اللہ کے لقب کا حقیقی مصداق قرار دیا، میرزا عبداللہ افندی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم لکھا، جبکہ اہلِ سنت کے معروف مؤرخ ابن حجر عسقلانی نے بھی آپ کی غیر معمولی ذہانت، بلند علمی مقام اور حسنِ اخلاق کا اعتراف کیا ہے۔
وفات
علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ کا انتقال 726 ہجری میں ماہِ محرم کی اکیسویں تاریخ کو شہرِ حلہ میں ہوا۔ آپ کے جنازہ کو نجفِ اشرف منتقل کیا گیا، جہاں حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے روضۂ اقدس کے ایوانِ طلا میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آج بھی آپ کی قبرِ مبارک مقدس اردبیلی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر کے سامنے مرجعِ عقیدت اور زیارت گاہِ اہلِ علم و معرفت ہے۔
علامہ حلّی رضوان اللہ تعالی علیہ اسلامی تاریخ کی ان عظیم اور ہمہ جہت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فقہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام، فلسفہ، حدیث، رجال، منطق اور تفسیر سمیت مختلف اسلامی علوم میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ نے فقہِ امامیہ کو مضبوط علمی و استدلالی بنیادیں فراہم کیں، اجتہادی فکر کو نئی جہت عطا کی اور معارفِ اہلِ بیتؑ کی ترویج و اشاعت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ آپ کی علمی میراث آج بھی حوزاتِ علمیہ، دینی مدارس اور جامعات میں زندہ ہے اور رہتی دنیا تک اہلِ علم کے لیے تحقیق، اجتہاد اور استدلال کا روشن مینار بنی رہے گی۔




