20 محرم؛ شہید کربلا حضرت جون علیہ السلام کی تدفین

ایک روایت کے مطابق واقعۂ عاشورا کے دس روز بعد یعنی 20 محرم الحرام 61 ہجری کو جب قبیلۂ بنی اسد میدانِ کربلا میں شہدائے کربلا کے اجساد مطہرہ کی تدفین کے لئے حاضر ہوا، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر سچے صحابی حضرت ابوذر غفاری رضوان اللہ تعالی علیہ کے وفادار غلام حضرت جون علیہ السلام کا جنازہ مبارک ملا۔ روایت ہے کہ دس دن گزر جانے کے باوجود آپ کا رخ منور اور جسمِ مبارک معطر تھا۔ چنانچہ بنی اسد نے نہایت احترام و عقیدت کے ساتھ آپ کو سپردِ خاک کیا۔
حضرت جون علیہ السلام وہ سعادت مند غلام تھے جنہیں حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے ایک سو پچاس دینار میں خرید کر اپنے عظیم صحابی حضرت ابوذر غفاری رضوان اللہ تعالی علیہ کو عطا فرمایا تھا۔ جب حضرت ابوذر غفاری رضوان اللہ تعالی علیہ کو ربذہ جلا وطن کیا گیا تو حضرت جون علیہ السلام بھی وفاداری کے تقاضہ کے تحت ان کے ساتھ ربذہ گئے اور آخری سانس تک ان کی خدمت کرتے رہے۔ حضرت ابوذر غفاری رضوان اللہ تعالی علیہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد مدینہ واپس آئے اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں رہے۔ پھر آپؑ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور اس کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت کا شرف حاصل کیا، اور مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا تک ہر مرحلے پر فرزندِ رسولؐ کے ہمراہ رہے۔
روزِ عاشورا جب معرکۂ حق و باطل اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا تو حضرت جون علیہ السلام بارگاہِ امام حسین علیہ السلام میں حاضر ہوئے اور میدانِ جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی۔ امام حسین علیہ السلام نے شفقت بھرے انداز میں فرمایا: "اے جون! تم ہمارے ساتھ عافیت و سلامتی کی امید سے آئے تھے، ہم نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے تم مصیبت میں مبتلا ہو۔”
حضرت جون علیہ السلام یہ سن کر امام حسین علیہ السلام کے قدموں میں گر پڑے، انہیں بوسہ دیا اور اشک بار آنکھوں سے عرض کیا: "اے فرزندِ رسولِ خداؐ! جب آپ آسائش میں تھے تو میں آپ کی خدمت کرتا تھا، کیا اب جب آپ مصیبت میں گھر گئے ہیں، میں آپ کو تنہا چھوڑ دوں؟”
پھر نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کیا: "میرے آقا! میرا جسم بدبو دار ہے، میرا حسب و نسب بلند نہیں اور میرا رنگ بھی سیاہ ہے۔ اے اباعبداللہ! مجھ پر کرم فرمائیے، اللہ تعالیٰ میرے جسم کو خوشبو سے معطر فرما دے، میرے چہرے کو نورانی بنا دے اور مجھے اہلِ جنت میں جگہ عطا فرمائے۔ خدا کی قسم! میں ہرگز آپ سے جدا نہیں ہوں گا، یہاں تک کہ میرا یہ سیاہ خون آپ کے پاکیزہ خون کے ساتھ مل جائے۔”
حضرت جون علیہ السلام کی بے مثال وفاداری، اخلاص اور عشق نے امام حسین علیہ السلام کو بھی رُلا دیا۔ چنانچہ آپؑ نے انہیں میدانِ جہاد کی اجازت عطا فرمائی۔
اگرچہ حضرت جون علیہ السلام عمر رسیدہ (90 برس) تھے، لیکن اہلِ حرم کے بچوں کو ان سے بے حد محبت تھی۔ جب وہ خیموں میں اہلِ بیت علیہم السلام سے رخصت ہونے اور حلالیت طلب (راضی) کرنے آئے تو بچوں کی گریہ و زاری بلند ہو گئی اور وہ ان سے لپٹ گئے۔ حضرت جون علیہ السلام نے شفقت سے سب کو دلاسہ دیا، انہیں خیموں میں واپس بھیجا اور پھر شیرِ دلاور کی طرح دشمن کی صفوں پر ٹوٹ پڑے۔
آپ نے بڑی بہادری سے جنگ کی، یہاں تک کہ دشمن نے چاروں طرف سے گھیر لیا اور آپ کے جسمِ مبارک پر بے شمار زخم لگائے۔ جب آپ زمین پر گرے تو امام حسین علیہ السلام فوراً تشریف لائے، آپ کا سر اپنی گود میں رکھا، گریہ فرمایا اور اپنے دستِ مبارک کو آپ کے چہرے پر پھیرتے ہوئے دعا کی: "اللّٰهُمَّ بَيِّضْ وَجْهَهُ، وَطَيِّبْ رِيحَهُ، وَاحْشُرْهُ مَعَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ عليهم السلام”
"اے اللہ! ان کے چہرے کو نورانی فرما، ان کی خوشبو کو معطر بنا دے اور انہیں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ اور آلِ محمد علیہم السلام کے ساتھ محشور فرما۔”
روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی اس دعا کی برکت سے حضرت جون علیہ السلام کا چہرہ نور سے جگمگا اٹھا اور جسمِ مبارک سے خوشبو آنے لگی۔ اسی لئے جب واقعۂ عاشورا کے دس روز بعد بنی اسد نے آپ کا جسم مبارک پایا تو وہ نور سے منور اور خوشبو سے معطر تھا۔
حضرت جون علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت کا معیار رنگ، نسل، قوم یا حسب و نسب نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، اخلاص، وفاداری اور راہِ خدا میں قربانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک غلامِ باوفا نے اپنی بے مثال جانثاری کے باعث تاریخِ کربلا میں ایسا مقام حاصل کیا کہ رہتی دنیا تک اس کا نام وفا، ایثار اور عشقِ حسینی کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا رہے گا۔




