ہندوستان

یکم محرم الحرام؛ لکھنؤ میں مجالسِ عزا اور شاہی ضریح کا روایتی جلوس

لکھنؤ: ماہِ محرم الحرام 1448 ہجری کے آغاز کے ساتھ ہی شہرِ عزا لکھنؤ میں عزاداری کی روایات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ یکم محرم کو نمازِ صبح کے بعد شہر کے مختلف امام باڑوں، مساجد، مدارس اور عزاخانوں میں مجالسِ عزا منعقد ہوئیں جن میں علماء و ذاکرین نے فلسفۂ شہادتِ امام حسینؑ اور پیغامِ کربلا پر روشنی ڈالی۔

امام باڑہ جنت مآب میں مولانا سید سیف عباس نقوی، امام باڑہ ناظم صاحب میں مولانا علی عباس خان، امام باڑہ غفرانمآب میں مولانا سید کلب جواد نقوی، امام باڑہ آغا باقر میں مولانا میثم زیدی، امام باڑہ قصرِ جنت میں مولانا سید علی ہاشم عابدی، مدرسہ ناظمیہ میں مولانا سید حمید الحسن، امام باڑہ آغا ہومیو میں مولانا فیض مشہدی، شیعہ کالج میں مولانا عباس ناصر، امام باڑہ افضل محل میں مولانا آغا روحی، بڑا امام باڑہ میں مولانا ممتاز جعفر، چھوٹا امام باڑہ میں مولانا محمد میاں، دفترِ نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی میں مولانا سید اشرف علی الغروی جبکہ مقبرہ سعادت علی میں پروفیسر کمال الدین اکبر نے مجالس سے خطاب کیا۔

اس کے علاوہ شہر کے دیگر عزاخانوں، مساجد اور مومنین کے گھروں میں بھی مجالسِ عزا منعقد ہوئیں جہاں علماء اور ذاکرین نے واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا۔ خواتین نے بھی اپنے گھروں میں مجالس اور ماتم کے ذریعے حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا علیہم السلام کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

دریں اثناء تاریخی بڑا امام باڑہ سے روایتی شاہی ضریح کا جلوس نہایت عقیدت و احترام اور شان و شوکت کے ساتھ برآمد ہوا۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا رات دیر گئے چھوٹا امام باڑہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں عزاداروں کی بڑی تعداد شریک رہی اور راستے بھر نوحہ خوانی، ماتم اور ذکرِ مصائبِ اہلِ بیت علیہم السلام کا سلسلہ جاری رہا۔

شہرِ لکھنؤ میں محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی عزاداری کی فضا قائم ہو گئی ہے اور آئندہ دنوں میں مجالس، جلوسوں اور دیگر مذہبی پروگراموں کا سلسلہ مزید وسعت اختیار کرے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button