
ہندوستان کی حکمراں جماعت کی جانب سے جبر کی نئی لہر کا آغاز
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال سے دل دہلا دینے والی رپورٹیں سامنے آئی ہیں جن میں مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری، جبر اور بے دخلی کی نئی لہر کا انکشاف ہوا ہے۔
اس منصوبے کو ”شناخت، حذف اور ملک بدری” کے عنوان سے حکمراں جماعت ”بھارتیہ جنتا پارٹی” (BJP) ریاست میں نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت روزانہ درجنوں مسلمانوں کو دہکتی دھوپ میں سرحدی حراستی مراکز منتقل کیا جاتا ہے تاکہ انھیں بالآخر بنگلہ دیش بے دخل کر دیا جائے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی ریاستی حکومت نے اس مذہبی طرزِ عمل کو اختیار کرتے ہوئے بے دستاویز تارکینِ وطن کی نگہداشت کے لیے بڑے حراستی مراکز تعمیر کیے ہیں۔
یہ معاندانہ اقدامات نہ صرف تارکینِ وطن بلکہ اس خطے کے دس کروڑ مقامی مسلمانوں کو بھی خوف و ہراس میں مبتلا کر چکے ہیں؛ کیونکہ بہت سے لوگ اس منصوبے کو خطے کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لیے ایک منظم نسلی اور مذہبی سازش قرار دیتے ہیں۔
اسی دوران بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے اس امتیازی سلوک پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
”بھارتیہ جنتا پارٹی” (BJP) کی قیادت میں نئی دہلی میں حکومت قائم ہونے کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں کو روزانہ حجاب، اذان یا ذبحِ گاو جیسے واہی بہانوں کی آڑ میں مار پیٹ، ایذا رسانی اور منظم تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔




