جنگ سے متاثرہ خاندان لبنان کی سڑکوں اور پارکوں میں دربدر؛ سرکاری پناہ گاہوں میں گنجائش ختم، بے گھر افراد کی حالت تشویشناک
جنگ سے متاثرہ خاندان لبنان کی سڑکوں اور پارکوں میں دربدر؛ سرکاری پناہ گاہوں میں گنجائش ختم، بے گھر افراد کی حالت تشویشناک
جنوبی لبنان میں فوجی حملوں اور دھمکیوں میں اضافے کے بعد ہزاروں بے گھر خاندان سرکاری رہائشی مراکز کی گنجائش مکمل ہو جانے کے باعث سڑکوں، پارکوں، کھیل کے میدانوں اور عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
یہ پناہ گزین انتہائی دشوار صحتی اور معاشی حالات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اپنے گھروں کو صرف ضروری سامان کے ساتھ چھوڑا اور اب مختلف شہروں کے عوامی مقامات پر پناہ لینے کے لئے سرگرداں ہیں۔ یہ صورتحال خطے میں ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اس سلسلہ میں خبر رساں ویب سائٹ "الجزیرہ نیٹ” نے جنوبی لبنان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بہت سے خاندانوں کو فوجی دھمکی آمیز کالیں موصول ہونے کے بعد اپنے گھروں کو فوری طور پر خالی کرنا پڑا۔
"مڈل ایسٹ نیوز” کے مطابق ان متاثرین میں بڑی تعداد مریضوں اور بچوں کی بھی شامل ہے۔ یہ لوگ صیدا کے تعلیمی اور انتظامی مراکز میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن شدید ہجوم اور گنجائش نہ ہونے کے باعث بے آسرا رہ گئے۔
دوسری جانب عالمِ اسلام کے مختلف ذرائع ابلاغ نے ان مظلوم خاندانوں کی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان ہمدردی، تعاون اور امدادی جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ ان بے دفاع شہریوں کی مدد کی جا سکے جو جنگ اور بے گھری کے کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔




