اسلامی دنیا

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی پہلی نمازِ جمعہ؛ عدلِ علوی پر مبنی حکمرانی کا آغاز

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی پہلی نمازِ جمعہ؛ عدلِ علوی پر مبنی حکمرانی کا آغاز

25 ذی الحجہ 35 ہجری کو امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے عوامی بیعت کے بعد اپنے دورِ خلافت کی پہلی نمازِ جمعہ قائم فرمائی۔

یہ واقعہ صرف ایک عبادت کی ادائیگی تک محدود نہ تھا بلکہ ایسی حکومت کے آغاز کا اعلان تھا جو تقویٰ، عدل، انصاف اور انسانی کرامت کی بنیادوں پر استوار تھی اور جس نے اسلامی قیادت کے لیے ایک نئی راہ متعین کی۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد برسوں تک حکومت کے قرآنی اور اہلِ بیت علیہم السلام کے راستے سے انحراف کے نتیجے میں مدینہ کی اسلامی سوسائٹی سیاسی انتشار اور مشروعیت کے بحران کا شکار ہو چکی تھی۔

لوگوں نے جب امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے علم، فضیلت، زہد و تقویٰ اور بے مثال کردار کو دیکھا تو آپؑ کی طرف رجوع کیا اور زمامِ حکومت سنبھالنے کی درخواست کی۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ابتدا میں خلافت قبول کرنے سے گریز فرمایا، لیکن اسلام کو درپیش خطرات اور عوام کے اصرار کو دیکھتے ہوئے اس عظیم ذمہ داری کو قبول کر لیا۔

عوامی بیعت کے بعد آنے والے پہلے جمعہ کو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے نمازِ جمعہ کی امامت فرمائی۔

آپؑ نے اپنے خطبۂ جمعہ میں لوگوں کو تقویٰ اختیار کرنے، انصاف پر قائم رہنے، قرآنِ مجید کی پیروی کرنے اور اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت سے تمسک رکھنے کی تلقین فرمائی۔

آپؑ نے ماضی کی ناانصافیوں اور انحرافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلامی اقدار کی طرف واپسی پر زور دیا اور لوگوں کو جاہلیت اور دنیا پرستی سے دور رہنے کی نصیحت کی۔

امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے اپنے اس تاریخی خطبے میں فرمایا: "خدا کی قسم! اگر مجھے ساتوں اقلیم اس شرط پر دے دیے جائیں کہ میں ایک چیونٹی سے جو کے دانے کا چھلکا بھی ناحق چھین لوں تو میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔”

اس ارشادِ گرامی کے ذریعہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے واضح کر دیا کہ عدل و انصاف ہی حکمرانی کا بنیادی معیار ہے اور وہ اللہ کی مخلوق کے سب سے معمولی حق کے بارے میں بھی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔

نمازِ جمعہ کے بعد امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے مخلص اصحاب، جن میں حضرت مالک اشتر، عبداللہ بن عباس اور حضرت عمار یاسر رضوان اللہ علیہم شامل تھے، سے ملاقات کی اور اسلامی معاشرے کی اصلاح کے طریقۂ کار پر گفتگو فرمائی۔

آپؑ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی بنیاد تقویٰ، اہلیت، مشاورت اور قرآنِ کریم سے وفاداری پر ہونی چاہیے۔

نیز آپؑ نے اعلان فرمایا کہ بیت المال صرف حق کے مطابق خرچ کیا جائے گا اور کسی قسم کی امتیازی سلوک یا ناانصافی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

"منتخب التواریخ”، "تاریخِ طبری” اور "بحار الانوار” جیسی معتبر کتب میں اس خطبہ کو صدرِ اسلام کے جامع اور بلیغ ترین خطبات میں شمار کیا گیا ہے۔

یہ تاریخی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نمازِ جمعہ محض ایک عبادت نہیں بلکہ امت کی رہنمائی، بیداری، باہمی اتحاد، عدل و انصاف کے فروغ اور نبوی و علوی اقدار کے احیاء کا مؤثر ذریعہ ہے۔

نمازِ جمعہ کو محبت، اخوت، پرامن بقائے باہمی، تقویٰ کی دعوت اور صدائے حق کا مرکز بننا چاہیے اور اسے تفرقہ، نفرت یا سیاسی انتقام کا ذریعہ بننے سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button