مسجد جامع عتیق اصفہان؛ نصفِ جہان کے قلب میں ایرانی ـ اسلامی فنِ تعمیر کی ہزار سالہ داستان

مسجد جامع عتیق اصفہان دنیاۓ اسلام کی نمایاں ترین تاریخی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے، جو آج بھی اپنے دامن میں ایرانی فنِ تعمیر کی عظمت کو محفوظ کیے ہوئے ہے اور تاریخی ادوار کی متنوع پرتوں کے ساتھ ایرانی اسلامی فن، ثقافت اور تہذیب کا ایک زندہ عجائب گھر بن چکی ہے۔
اس سلسلے میں آپ کی توجہ اپنے ساتھی کی رپورٹ کی جانب مبذول کراتے ہیں:
مسجد جامع عتیق اصفہان یا مسجد جمعہ اصفہان، ایران کے اہم ترین تاریخی اور مذہبی آثار میں شمار ہوتی ہے۔
یہ ایک ایسی عظیم عمارت ہے جس نے صدیوں کے دوران ایرانی ـ اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقائی مراحل کو اپنے اندر سمو رکھا ہے اور آج اصفہان شہر کی نمایاں ترین ثقافتی جاذبۂ نظر عمارتوں میں شامل ہے۔
یہ تاریخی مسجد مذہبی حیثیت کے علاوہ ہمیشہ اصفہان کے عوام کی سماجی اور ثقافتی زندگی میں بھی اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔
مسجد کے مختلف حصوں کی تعمیر اور توسیع تاریخ کے مختلف ادوار میں انجام پائی، اور اس کا ہر حصہ کسی نہ کسی دور کی یادگار اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہے۔
بہت سے ماہرینِ فنِ تعمیر کا ماننا ہے کہ اس مجموعے کی ابتدائی بنیادیں اسلامی صدیوں کے آغاز سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ سلجوقی دور میں مسجد کی بنیادی ساخت اور موجودہ شکل تشکیل پائی۔
خبر رساں ایجنسی ایسنا کی رپورٹ کے مطابق، وسیع شبستان، تاریخی گنبد، عظیم ایوان، قدیم کتبے اور نفیس اینٹوں کا کام مسجد جامع اصفہان کو ایرانی فنِ تعمیر کا ایک بے نظیر نمونہ بناتے ہیں۔
ثقافتی ورثے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسجد درحقیقت ایران میں اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقا کی ایک زندہ نمائش گاہ ہے۔
بعض محققین کا یہ بھی خیال ہے کہ اسلام سے قبل بھی یہ مقام مذہبی اہمیت رکھتا تھا، اور امکان ہے کہ اصفہان کے اہم آتشکدوں میں سے ایک اسی جگہ واقع تھا۔

اسی وجہ سے مسجد جامع اصفہان محض ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ ایران کی تاریخی اور تمدنی یادداشت کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
صدیوں کے دوران سلجوقیوں سے لے کر صفویوں تک مختلف حکومتوں نے اس مسجد میں مختلف حصے شامل کیے، اور ہر دور نے اس میں ایرانی فن کے ایک نئے رنگ کو نمایاں کیا۔
ہندسی تزئینات، مقرنس کاری اور مسجد کے مختلف حصوں میں موجود قرآنی کتبے، ایرانی اسلامی فنِ تعمیر میں روحانیت اور فن کے گہرے تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس تاریخی مسجد کی حالیہ تصاویر، جنہیں «خدیجہ نادری» نے ثبت کیا اور خبرگزاری مہر میں شائع کیا گیا، ایک بار پھر ثقافتی ورثے اور اسلامی فنِ تعمیر کے شائقین کی توجہ اس عظیم تاریخی شاہکار کی جانب مبذول کرا رہی ہیں۔
ثقافتی ورثے کے شعبے سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ اس قیمتی تاریخی عمارت کی بہتر حفاظت اور زیادہ تعارف، اسلامی تہذیب اور ایرانی فن کو دنیا کے سامنے متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔




