خبریںیورپ

یورپ میں اسلام دشمنی کے پھیلاؤ پر نئی رپورٹ؛ باحجاب خواتین اصل ہدف، اور سیکیورٹی نگرانی مسلمانوں پر دباؤ کا ذریعہ

یورپ میں مسلمانوں کی صورتحال سے متعلق سالانہ رپورٹ میں اسلام دشمنی میں نمایاں اضافے، سیکیورٹی نگرانی کے پھیلاؤ، اور مسلمانوں کے خلاف سماجی دباؤ میں شدت آنے کی خبر دی گئی ہے۔ محققین کے مطابق یہ صورتحال بعض یورپی ممالک کے سیاسی اور میڈیا ڈھانچے کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے میرے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

بعض یورپی ممالک میں سماجی اور سیاسی کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ساتھ، نئی رپورٹس اسلام دشمنی میں اضافے اور مسلمانوں کے خلاف دباؤ میں شدت کی نشاندہی کرتی ہیں۔

یہ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ مسلمان، خصوصاً باحجاب خواتین، پہلے سے زیادہ امتیازی سلوک، نفرت انگیزی اور سیکیورٹی نگرانی کا نشانہ بن رہی ہیں۔

میڈیا ادارے «یورونیوز» کی رپورٹ کے مطابق، “یورپ میں اسلام دشمنی ۲۰۲۵” کے عنوان سے سالانہ رپورٹ،
جو برسلز میں قائم ایک تحقیقی ادارے کی جانب سے شائع کی گئی، برطانیہ، فرانس، ڈنمارک، سویڈن اور آسٹریا سمیت گیارہ یورپی ممالک میں مسلمانوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ اسلام دشمنی اب صرف سڑکوں پر حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یورپ کے سیاسی، میڈیا اور سیکیورٹی ماحول کا حصہ بن چکی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، سال ۲۰۲۵ کے دوران کم از کم ۸۷۶ اسلام دشمنی پر مبنی واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں توہین،
نا انصافی ، نفرت پر اکسانا اور جسمانی حملے شامل تھے۔

مسلمان خواتین تقریباً ۸۰ فیصد متاثرین پر مشتمل ہیں، اور ان میں سے بڑی تعداد کے واقعات حجاب کے مسئلے سے متعلق تھے۔

رپورٹ کے مصنفین نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اسلام دشمنی کے بہت سے واقعات کبھی رپورٹ ہی نہیں ہوتے، اور بعض ممالک میں عمومی فضا مسلمانوں کے خلاف
نا انصافی کو معمول بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ یورپی حکومتیں بتدریج مسلمانوں کو “سیکیورٹی خطرہ” اور “سماجی کنٹرول” کے زاویے سے دیکھ رہی ہیں۔

مذہبی علامات پر پابندیاں، اسلامی مراکز پر نگرانی میں اضافہ، اور ہجرت سے متعلق سخت پالیسیاں اُن اقدامات میں شامل ہیں جو مختلف یورپی ممالک میں دیکھے جا رہے ہیں۔

اسی طرح رپورٹ میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی میں اضافے کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے،
اور کہا گیا ہے کہ مجازی دنیا میں شائع ہونے والے لاکھوں مواد اسلام دشمن مضامین پر مشتمل رہتے ہیں۔

محققین نے زور دیا ہے کہ بعض اوقات یہی مواد مسلمانوں کے خلاف عملی حملوں اور تشدد کا سبب بنتا ہے۔

برطانیہ سے متعلق حصے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمان، اگرچہ ملک کی تقریباً ۶ فیصد آبادی پر مشتمل ہیں، لیکن دیگر شہریوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سیکیورٹی نگرانی کے پروگراموں کے تحت رکھے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے بہت سے مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ “ہمیشہ نگرانی میں رہنے والی ایک برادری” کے طور پر برتاؤ کیا جاتا ہے، اور اس صورتحال نے ان کے اندر عدم تحفظ اور بے اعتمادی کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button