یورپ

فرانس میں مسلمان اپنے شہری حقوق کے دفاع اور قانونی پابندیوں میں اضافے کو روکنے کے لئے پارلیمنٹ سے مذاکرات کے خواہاں

فرانس میں مسلمان اپنے شہری حقوق کے دفاع اور قانونی پابندیوں میں اضافے کو روکنے کے لئے پارلیمنٹ سے مذاکرات کے خواہاں

فرانس میں نئے قانونی منصوبوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد، اس ملک کی متعدد اسلامی تنظیموں نے پارلیمنٹ سے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے سماجی دباؤ کو روکنا اور ان کے شہری حقوق کا دفاع کرنا ہے۔

حالیہ دنوں میں فرانس کی کئی اسلامی تنظیموں نے حکومت اور سینیٹ کی جانب سے پیش کئے گئے مجوزہ قوانین کے نتائج پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ قوانین مسلمانوں کے خلاف منفی رویوں اور مزید پابندیوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر یہ قوانین منظور ہو گئے تو سماجی ماحول میں بدگمانی بڑھے گی اور باہمی اعتماد میں کمی آسکتی ہے۔

یورونیوز کی رپورٹ کے مطابق، ان تنظیموں کے نمائندوں نے فرانسیسی پارلیمنٹ کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مسلم برادری کے خدشات کو پیش کرکے ان پر غور کیا جا سکے۔

ان تنظیموں کا ماننا ہے کہ بعض مجوزہ قوانین مسلمانوں کی دینی، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

فرانس کے سماجی کارکنوں نے بھی پرامن سماجی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اداروں اور مذہبی گروہوں کے درمیان مکالمہ کشیدگی میں اضافے کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق شہری حقوق کا احترام اور ایسی پالیسیوں سے اجتناب، جو اقلیتوں کو حاشیے پر دھکیلنے کا باعث بنیں، معاشرتی اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ کے لئے نہایت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button