ثقافت اور فندنیا

دَحوُ الارض؛ رحمتِ الٰہی، آغازِ زمین اور روحانی بیداری کا دن

دَحوُ الارض دراصل کائنات میں رحمتِ الٰہی کے پہلے ظہور، زمین کے پھیلائے جانے اور حیات کے آغاز کا دن ہے۔ روایات کے مطابق 25 ذی القعدہ کو پہلی بار خشکی ظاہر ہوئی اور زمین زندگی کے قابل بنائی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے تخلیقِ انسانیت کے ابتدائی باب اور رحمتِ خداوندی کے اولین نزول کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

قرآنِ کریم کی آیات “وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا” اور “أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا” اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بچھایا، اس میں پانی، سبزہ اور زندگی کے اسباب پیدا کیے۔ روایات کے مطابق سب سے پہلی سرزمین خانۂ کعبہ تھی، اسی لئے کعبہ نہ صرف قبلۂ عالم بلکہ آغازِ زمین اور مرکزِ توحید کی علامت بھی ہے۔
یہ دن صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک روحانی پیغام رکھتا ہے کہ جس طرح زمین تاریکی اور پانی کے سکوت سے نکل کر حیات و روشنی کی طرف آئی، اسی طرح انسان کا دل بھی غفلت، گناہ اور نفرت سے نکل کر ایمان، معرفت اور محبت کی روشنی حاصل کرسکتا ہے۔ دحو الارض انسان کے باطن کی تعمیر، توبہ، دعا اور روحانی بیداری کا دن ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات میں اس دن کی عبادت، روزہ اور شب بیداری کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ یہ دن انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل آبادی دل کی آبادی ہے، اور حقیقی سکون خدا کی یاد، عبادت اور روحانی تعلق میں پوشیدہ ہے۔ دحو الارض کا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے دل کو پاک کرے، اپنی روح کو نورِ الٰہی سے زندہ کرے اور رحمتِ خداوندی سے وابستہ ہوجائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button