جنگ زدہ اور بحران سے متاثرہ علاقوں کے طلبہ کے لئے نفسیاتی اور تعلیمی معاونت کی ضرورت

دنیا کے مختلف خطّوں میں انسانی بحرانوں، قدرتی آفات اور جنگی حالات میں اضافہ کے بعد ماہرینِ تعلیم نے متاثرہ طلبہ کی نفسیاتی کیفیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کیونکہ ایسے بچے سب سے پہلے جذباتی سہارا اور نفسیاتی بحالی کے محتاج ہوتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ معمول کی تعلیمی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔
اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
ایسے حالات میں جب جنگ، بمباری، زلزلے، سیلاب اور دیگر قدرتی و انسانی بحرانوں نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر دیا ہے، بچے خصوصاً طلبہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ بچے جسمانی اور مالی نقصانات کے علاوہ شدید ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا بھی سامنا کرتے ہیں، جو ان کی تعلیم اور شخصیت کی نشوونما کو سنجیدگی سے متاثر کرتا ہے۔
بین الاقوامی قرآن خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحران زدہ علاقوں کے طلبہ کی پہلی اور بنیادی ضرورت جذباتی تعاون، احساسِ تحفظ اور نفسیاتی ہمراہی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں کی جسمانی تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی بحالی کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ جنگ اور بحران سے متاثرہ بچوں کی نفسیاتی حالت کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں طویل المدتی مسائل جنم لے سکتے ہیں، جن میں تعلیمی کمزوری، دائمی اضطراب اور سماجی صلاحیتوں میں کمی شامل ہیں۔
اسی لئے اساتذہ اور تعلیمی نظام کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے تاکہ طلبہ کے لیے ایک محفوظ، پُرسکون اور اعتماد بخش ماحول فراہم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسکول مختلف امدادی پروگراموں، اجتماعی سرگرمیوں اور زندگی گزارنے کی مہارتوں کی تربیت کے ذریعہ طلبہ پر بحران کے نفسیاتی اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ اقدامات نہ صرف بچوں کو دوبارہ تعلیمی عمل سے جوڑنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ مستقبل کے بحرانوں کے مقابلے کے لئے ان کی قوتِ برداشت اور ذہنی استقامت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
بچوں کی نفسیات کے بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ خاندانوں کی حمایت بھی بچوں کی ذہنی بحالی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
ان کے مطابق گھر اور اسکول میں مستقل جذباتی تعلق اور احساسِ تحفظ پیدا کرنا متاثرہ بچوں کی نفسیاتی بحالی کا سب سے اہم عنصر ہے۔
مجموعی طور پر، بحران زدہ علاقوں کے طلبہ کی نفسیاتی ضروریات پر توجہ دینا تعلیمی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے، جو اس نسل کے تعلیمی اور سماجی مستقبل پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔




