نائجیریہ میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اغوا کی وارداتوں کے دوران؛ داعش نے مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
نائجیریہ میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اغوا کی وارداتوں کے دوران؛ داعش نے مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
سنی شدت پسند دہشت گرد گروہ داعش نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے نائجیریہ کی ریاست آداماوا میں ہونے والے خونریز حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
اس حملے میں درجنوں بے گناہ شہری جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد ایک بار پھر اس افریقی ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
یہ واقعہ اُن مسلسل پرتشدد کارروائیوں کا حصہ ہے جو نائجیریہ کے مختلف علاقوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ اس حملے میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
روزنامہ "العربی الجدید” کے مطابق، ریاست کوگی میں سیکیورٹی فورسز نے ایک الگ کارروائی کے دوران 15 طلبہ کو بازیاب کرا لیا۔
جنہیں ایک حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔ یہ طلبہ اُس گروہ کا حصہ تھے جسے ایک اسکول اور یتیم خانے پر حملے کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔
مقامی حکام کے مطابق، دیگر مغوی افراد کی بازیابی کے لیے آپریشن تاحال جاری ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران نائجیریہ کے مختلف علاقوں میں اغوا برائے تاوان اور مسلح حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث عوام کی روزمرہ زندگی اور تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب، رپورٹس کے مطابق شمال مشرقی نائجیریا میں شدت پسند گروہوں کے خلاف فوجی فضائی کارروائیوں میں بھی بھاری جانی نقصان ہوا ہے، تاہم مختلف ذرائع میں ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔




