
شہریوں کے اثاثوں کے مزید ہتھیائے جانے کا خدشہ
کابل کے مغربی علاقے میں واقع شہرک امید سبز کی پندرہ سو ہیکٹر سے زائد زمین طالبان کی جانب سے ضبط کیے جانے کی تازہ خبر نے ایک بار پھر افغانستان میں ذاتی ملکیت کے تحفظ اور شہریوں کے اثاثوں پر قبضے کے جاری سلسلے سے متعلق تشویش کو ہوا دے دی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام گزشتہ برسوں میں طالبان کی جانب سے زمینوں پر ناجائز قبضے کے وسیع تر عمل کا ہی ایک حصہ ہے۔
ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، شہرک امید سبز کا بڑا حصہ طالبان کے قبضے میں جانے کے بعد سے ردعمل اور تشویش کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بہت سے افغان شہری برسوں سے اپنی ذاتی جائیدادوں کے مستقبل اور ملکیتی تنازعات کی غیر جانبدارانہ سماعت کے لیے کسی مستند ادارے کی عدم موجودگی پر فکرمند چلے آ رہے ہیں۔
روزنامہ ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کی وزارتِ عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ مرکزی زون میں ناجائز قبضے کی زمینوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے قائم خصوصی عدالت نے کابل کے مغرب میں شہرک امید سبز کی پندرہ سو ہیکٹر سے زائد زمین کو ”امارتی” قرار دے کر اسے طالبان کے نام درج کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ اس وزارت کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ دستاویزات اور شواہد کے جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔
شہرک امید سبز کابل کے مغربی علاقے کی ایک معروف بستی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان زمینوں کا ایک بڑا حصہ نجی مالکان کی ملکیت رہا ہے۔ اس خبر کے منظرعام پر آتے ہی ملکیتی حقوق اور افغانستان میں رہائشی و شہری ترقی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مستقبل کا سوال ایک بار پھر زیربحث آ گیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ طالبان پر شہری اور دیہی زمینوں پر قبضے کا الزام عائد کیا گیا ہو۔ افغان ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، گزشتہ برسوں میں بھی کابل اور دیگر صوبوں میں کئی بستیوں، باغات اور مختلف علاقوں کو طالبان ہتھیا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ جبری قبضے، مالکان پر دباؤ اور ملکیتی تنازعات میں طالبان سے وابستہ مسلح افراد کی مداخلت کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس رجحان کا تسلسل عوامی اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچا سکتا ہے اور سرمائے کی منتقلی، تعمیراتی شعبے میں جمود اور سماجی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ افغانستان کے بہت سے شہری چاہتے ہیں کہ زمینی تنازعات کی سماعت اور شہریوں کی جائیدادوں کو ناجائز قبضے سے بچانے کے لیے ایک شفاف، خودمختار اور منصفانہ نظام قائم کیا جائے۔




