دنیا

چرنوبیل نیوکلیئر پاور پلانٹ سانحے کی چالیسویں برسی

اقوامِ متحدہ نے جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال اور عالمی تعاون پر زور دیا

چرنوبیل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سانحہ کی چالیسویں برسی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جوہری ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ اور پُرامن استعمال پر زور دیتے ہوئے ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر حفاظتی اقدامات مضبوط بنانے کی ضرورت پر تاکید کی۔

یہ اجلاس دنیا کی بدترین صنعتی آفات میں سے ایک کی یاد دہانی بھی تھا، جس کے اثرات آج تک برقرار ہیں۔

خبر رساں ایجنسی "شِنہوا” کے مطابق اقوامِ متحدہ کے خصوصی اجلاس میں جنرل اسمبلی کے صدر نے کہا کہ چرنوبیل حادثے نے واضح کر دیا کہ جوہری ٹیکنالوجی، حتی کہ غیر عسکری مقاصد کے لئے بھی سخت نگرانی، مضبوط قوانین اور بین الاقوامی تعاون کی متقاضی ہے۔

انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے صرف پُرامن استعمال اور عالمی ضوابط کی پابندی پر زور دیا۔

شِنہوا کے مطابق، 26 اپریل 1986 کو چرنوبیل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر 4 میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں یوکرین، بیلاروس اور یورپ کے کئی حصوں میں وسیع پیمانے پر تابکار آلودگی پھیل گئی۔

لاکھوں افراد اس کے مضر اثرات کی زد میں آئے اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ بے شمار بچے سنگین بیماریوں کا شکار ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بھی اس سانحے کو تاریخ کا سب سے بڑا جوہری حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔

انہوں نے معلومات کے تبادلے، تکنیکی تجربات کی شراکت اور جوہری توانائی کے شعبہ میں حفاظتی ثقافت کے فروغ پر زور دیا۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے نمائندے نے بھی خبردار کیا کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی اگر احتیاط اور ذمہ داری کے بغیر استعمال کی جائے تو وہ انسانیت کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button