شیعہ مرجعیت

اسلام میں خون کی حرمت

اسلام میں خون کی حرمت

از تبرکات مرجع راحل آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی رحمۃ اللہ علیہ

اسلام خون بہانے (قتل و خونریزی) کی سختی سے ممانعت کرتا ہے اور اس سلسلہ میں بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث میں خون کی حرمت اور اس کی سنگینی کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علی‌ علیہ السلام نے مالک اشتر کو لکھے گئے اپنے خط میں فرمایا: “ناحق خون بہانے سے بچو… اپنی حکومت کو ناحق خون بہا کر مضبوط کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ ایسا خون نہ صرف حکومت کو کمزور کرتا ہے بلکہ اسے تباہ کر دیتا ہے اور دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے۔ اگر تم جان بوجھ کر قتل کرو گے تو نہ اللہ کے سامنے معذرت ہوگی اور نہ میرے سامنے۔” (نہج البلاغہ، خط 35)

امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: “قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ ہوگا وہ خون ہوگا۔ سب سے پہلے آدم کے دو بیٹوں کا فیصلہ کیا جائے گا، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئے اور جن کے درمیان خون کا معاملہ ہوگا۔ یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہیں رہے گا جس کا حساب نہ ہو۔” (وسائل الشیعہ، جلد 29، صفحہ 12)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: “قاتل، شرابی اور چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔” (وہی ماخذ، صفحہ 13)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:‌ “جس نے کسی انسان کو ناحق قتل کیا، تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ اور جس نے کسی ایک انسان کو بچایا، تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔” (سورۃ المائدہ، آیت 32)

(ماخذ: نفی خشونت در اسلام، فصل ششم: سیاسی عدم تشدد، صفحہ 168)

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button