دنیا

عالمی قانونی نظم کا تدریجی انہدام؛ بین الاقوامی قوانین کی کمزوری

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں دنیا میں ایک تشویشناک رجحان کی خبر دی ہے اور تاکید کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانونی ڈھانچے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد انسانوں کے تحفظ کے لیے تشکیل دیے گئے تھے، شدید طور پر کمزور ہو رہے ہیں۔
اس رپورٹ میں آیا ہے کہ یہی امر انسانی بحرانوں کے پھیلاؤ اور عالمی عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے۔

اس حوالے سے میرے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر نظامِ حقوقِ بشر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی متعدد نشانیاں دیکھی جا رہی ہیں۔

یہ دباؤ اب ایک یا چند مخصوص ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی اداروں کے مطابق ایک ہمہ گیر رجحان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

خبر رساں ایجنسی فرانس کے مطابق، ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کے حوالے سے سال 2025 کی صورتحال جنگوں میں اضافہ، سیاسی سرکوبیوں، سزائے موت اور وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کے ساتھ رہی ہے۔
اس رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ "حقوقِ بشر کی حفاظتی دیواریں ایک کے بعد ایک گر رہی ہیں”۔

یہ انسانی حقوق کا ادارہ خبردار کرتا ہے کہ موجودہ بحران صرف تنازعات کی شدت یا ریاستوں کے تشدد کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں کثیرالجہتی ڈھانچوں کی کمزوری اور مشترکہ بین الاقوامی اصولوں سے بے اعتنائی میں پیوست ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، عالمی اداروں میں سیاسی آلات کے غلط استعمال اور دوہرے معیارات کے پھیلاؤ نے بین الاقوامی قانون کے نظام کی ساکھ کو کمزور کر دیا ہے۔

رپورٹ کے ایک اور حصے میں آیا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں فوجی حملے، علاقائی تنازعات میں اضافہ اور غیر فوجی بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنانا عوام کی زندگیوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور لاکھوں افراد کو غیر محفوظ حالات میں ڈال رہا ہے۔

اسی طرح اس رپورٹ میں ہجرت اور پناہ گزینی کے مسئلے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بعض ممالک میں سخت گیر پالیسیوں میں اضافہ، اور مہاجرین کی وسیع پیمانے پر بے دخلی کے رجحان نے ایک نیا عالمی انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔

یہ صورتحال خاص طور پر ان افراد کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے جنہیں غیر مستحکم علاقوں کی طرف واپس بھیجا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے تجزیاتی حصے میں عفو بین‌الملل نے تاکید کی ہے کہ اس رجحان کا تسلسل عوام کے بین الاقوامی اداروں پر اعتماد کو مزید کمزور کر سکتا ہے اور دنیا کو گہرے سیاسی و انسانی تقسیم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

مجموعی طور پر، یہ رپورٹ ایک ایسی دنیا کی تصویر پیش کرتی ہے جہاں مشترکہ انسانی اصول بتدریج مدھم پڑ رہے ہیں اور ان کی جگہ سیاسی رقابتیں، علاقائی بحران اور بڑھتی ہوئی عدم تحفظ لے رہی ہے۔

ایسا رجحان اگر جاری رہا تو عالمی نظام کے مستقبل پر اس کے وسیع تر اثرات مرتب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button