عراق میں داعش کی سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی، ملک کا سکیورٹی جنگ سے زمینی استحکام کی طرف سفر
عراق میں داعش کی سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی، ملک کا سکیورٹی جنگ سے زمینی استحکام کی طرف سفر
عراق کے سکیورٹی ذرائع نے رواں سال میں شدت پسند تنظیم داعش کی سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی کی اطلاع دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان سن 2014 میں اس تنظیم کے عروج کے بعد سے اب تک اس کی سب سے کمزور حالت کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عراق گزشتہ چند برسوں سے وسیع سکیورٹی کارروائیوں کے ذریعہ ملک کے مختلف علاقوں میں اس تنظیم کے باقی ماندہ ڈھانچوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مڈل ایسٹ نیوز کے مطابق سال 2026 کے آغاز سے اب تک عراق میں داعش کی جانب سے کسی بھی منظم یا مربوط حملے کا اندراج نہیں ہوا۔ اس صورتحال کو تنظیم کی عملی صلاحیت میں نمایاں کمی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح العربی الجدید کے مطابق انٹیلیجنس صلاحیتوں میں اضافہ، پیشگی کارروائیاں، مالی نیٹ ورکس کی تباہی اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کا استعمال دیالہ، کرکوک، صلاح الدین اور الانبار جیسے صوبوں میں داعش کی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں مؤثر ثابت ہوا ہے۔
اس حوالے سے عراقی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملوں میں یہ کمی سکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، اور اب داعش بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق تنظیم اس وقت بقا کی حالت میں ہے اور اس کی سرگرمیاں زیادہ تر محدود، منتشر اور پروپیگنڈا تک رہ گئی ہیں، جو اس کے کمزور ہوتے اثر و رسوخ کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔




