
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے وسیع حملوں کے بعد، ملک کے مختلف علاقوں میں تیل اور گیس کی پیداوار، ترسیل اور ریفائننگ کے شعبے متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث توانائی کی برآمدی صلاحیت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں اہم ترسیلی لائنوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی، بعض بڑے تیل کے میدانوں میں پیداوار کم ہوئی، اور انسانی و فنی نقصانات بھی سامنے آئے ہیں۔
سعودی ٹی وی چینل “الإخباریة” نے وزارتِ توانائی کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ان حملوں کا ہدف ریاض، مشرقی صوبہ (الشرقیہ) اور ینبع کے علاقے تھے، جہاں اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی حکام نے واضح طور پر متحدہ عرب امارات کو ان حملوں کا ممکنہ ذمہ دار قرار دیا ہے، جبکہ سرکاری بیانات اور مؤقف میں ایران کا بطور ملزم کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید برآں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر “بن سعید” نامی ایک مبینہ تجزیہ کار کے مطابق، یہ حملے “لوکاس” نامی ڈرونز کے ذریعہ کئے گئے، اور بعض تجزیوں میں اس کارروائی کو بھی متحدہ عرب امارات سے منسوب کیا گیا ہے۔



