11 اپریل: عالمی یومِ پارکنسن

پارکنسن کی بیماری اعصابی نظام کی ایک اہم اور بڑھتی ہوئی خرابی ہے، جو آہستہ آہستہ جسمانی حرکات کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے اور لرزش، سستیِ حرکت جیسے علامات کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ اس بیماری کی ابتدائی علامات پر توجہ دینا اس کے بہتر انتظام میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ہمارے ایک ساتھی رپورٹر نے اس موضوع پر ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے اسے ساتھ دیکھتے ہیں۔
گیارہ اپریل کو عالمی یومِ پارکنسن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس بیماری کے بارے میں عوامی آگاہی میں اضافہ اور دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی حمایت کرنا ہے۔
پارکنسن ایک بتدریج بڑھنے والی اعصابی بیماری ہے، جو دماغ میں ڈوپامین پیدا کرنے والے خلیات کی کمی کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
یہ کیمیائی مادہ جسم کی حرکات کو کنٹرول اور ہم آہنگ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور اس کی کمی مختلف علامات کا سبب بنتی ہے۔
اس بیماری کی نمایاں علامات میں ہاتھوں یا جسم کے دیگر حصوں کا لرزنا (خاص طور پر آرام کی حالت میں)، حرکات میں سستی، عضلات میں سختی اور توازن کا بگڑ جانا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ غیر حرکت والی علامات جیسے ڈپریشن، نیند کی خرابی، سونگھنے کی حس میں کمی اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل بھی بہت سے مریضوں میں دیکھے جاتے ہیں۔
اس بیماری کی اصل وجہ تاحال مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل اس کے پیدا ہونے میں مشترکہ کردار ادا کرتے ہیں۔
بڑھتی عمر اس کا سب سے بڑا خطرہ ہے، اگرچہ کم عمری میں بھی اس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
فی الحال پارکنسن کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں، تاہم اس کی علامات کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف طریقۂ علاج دستیاب ہیں۔
ڈوپامین کی سطح کو بہتر بنانے والی ادویات، فزیوتھراپی اور باقاعدہ ورزش مریضوں کی حالت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
بعض صورتوں میں علامات کو کم کرنے کے لئے آپریشن بھی کئے جاتے ہیں۔
عوامی آگاہی میں اضافہ اور ابتدائی علامات پر توجہ دینا، بروقت تشخیص اور مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دنیا بھر میں مختلف انجمنیں اور ادارے ورکشاپس، سیمینارز اور تعلیمی پروگرامز کے ذریعے لوگوں اور خاندانوں کو اس بیماری سے متعلق آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستند طبی و خبری ذرائع، جیسے نیویارک ٹائمز کی میڈیکل رپورٹیں اور عالمی ادارۂ صحت کی معلومات کے مطابق، نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ باقاعدہ جسمانی ورزش اور متوازن غذا اس بیماری کی رفتار کو سست کر سکتی ہے اور مریضوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔
اسی طرح خاندان اور معاشرتی تعاون مریضوں میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔




