اسلامی دنیاتاریخ اسلام

عشرہ صادقیہ 21 سے 30 شوال تک؛ امام صادق علیہ السلام کی شہادت کی یاد

21 سے 30 شوال تک کے ایام کو "عشرہ صادقیہ” کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، اور اسی مناسبت سے یہ دن مسلمانوں کے چھٹے امام، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کی یاد میں سوگواری اور عزاداری کے لئے مخصوص ہیں۔

انہی دنوں میں 25 شوال کو پوری امتِ مسلمہ آپؑ کی شہادت کا غم مناتی ہے۔

ان ایام میں دنیا ایک ایسی عظیم شخصیت کے غم میں سوگوار نظر آتی ہے جو ہر دور میں انسانیت کی رہنمائی کرنے والی اور حق کے متلاشیوں کے لئے مشعلِ راہ تھی۔ دینِ اسلام کا تحفظ، اس کے احکام و معارف کی ترویج، اور دینی علوم کی نشر و اشاعت، سب کچھ اس امامِ برحق کی مبارک ہستی کے طفیل ممکن ہوا، جو "صادق” اور کلامِ الٰہی کے ناطق تھے۔

یہ ایام اس بات کی یاد دہانی بھی ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے علمی میدان میں کس قدر عظیم خدمات انجام دیں اور اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل میں کس طرح بنیادی کردار ادا کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی بہت سی علمی ترقیات اس عظیم علمی مرکز کی مرہونِ منت ہیں جس کی بنیاد ان امام عالی مقام نے اپنی وسیع علمی تحریک کے ذریعہ رکھی، اور جہالت کے اندھیروں کو علم، معرفت اور کمال کی روشنی سے بدل دیا۔

آج کا معاشرہ بھی اگر آپؑ کی تعلیمات کی پیروی کرے تو ترقی اور کمال کی منازل طے کر سکتا ہے۔

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ نے بھی اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انسانیت کی ترقی امام صادق علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔

امام صادق علیہ السلام کی علمی تحریک نے ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی اور اسلامی دنیا میں فکری و علمی پیشرفت کی مضبوط بنیاد رکھی۔

اگرچہ اس دور کے حکمرانوں کی طرف سے سیاسی دباؤ اور پابندیاں موجود تھیں، لیکن یہ رکاوٹیں اس عظیم علمی تحریک کو روک نہ سکیں، اور اس کے اثرات آج بھی انسانی فکر و دانش کی تاریخ میں نمایاں ہیں۔

یہ ایام ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتے ہیں کہ ہم امام صادق علیہ السلام کی علمی و اخلاقی سیرت کی طرف رجوع کریں، اپنے روحانی تعلق کو مضبوط بنائیں، اور دینی تعلیمات پر عمل کرنے کی اپنی ذمہ داری کو یاد رکھیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button