خبریںلبنان

اسرائیل کا لبنان پر مسلسل دوسرے روز بھی حملہ، ہلاکتوں میں اضافہ

اسرائیلی فضائی حملے جمعرات کو بھی مسلسل دوسرے روز لبنان میں جاری رہے اور بیروت سمیت جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے حالیہ ہفتوں کے سب سے مہلک بمباری کے سلسلے کے بعد کیے گئے۔

یہ کشیدگی بدھ کے روز ہوئے ہولناک حملوں کے بعد مزید بڑھی ہے، جس دوران اسرائیلی افواج نے چند ہی منٹوں کے اندر ایک سو سے زائد فضائی حملے کیے اور بیروت، وادیِ بقاع اور جنوبی لبنان کو تہ و بالا کر دیا۔ لبنانی محکمۂ صحت کے مطابق کم از کم ڈھائی سو افراد جاں بحق اور گیارہ سو سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تین سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

جمعرات کو جنوبی لبنان میں صور کے نواحی علاقوں سمیت بیروت کے جنوبی مضافات پر بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان تازہ حملوں سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بہت سے باشندے اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نکل پڑے۔

بدھ کا وسیع پیمانے پر کیا گیا یہ حملہ حالیہ برسوں میں بیروت کی شدید ترین بمباری قرار دیا جا رہا ہے، جس میں گھنی آبادی والے رہائشی محلوں کو نشانہ بنایا گیا اور عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بے پناہ نقصان پہنچا۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ یہ حملے حزبُ اللہ سے وابستہ مقامات، جن میں کمانڈ سنٹر اور فوجی تنصیبات شامل ہیں، کو ہدف بنا کر کیے گئے۔ تاہم لبنانی حکام اور بین الاقوامی مبصرین نے عام شہریوں کے جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔

اس کشیدگی نے علاقائی سطح پر بھی تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔ ایران سمیت کئی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتِ حال وسیع تر امریکی-ایرانی کشمکش سے جڑی نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر تحمل و برداشت اور شہریوں کے تحفظ کی اپیلیں بھی زور پکڑتی جا رہی ہیں۔

سفارتی کوششوں کے باوجود اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ حزبُ اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان کا موقف ہے کہ موجودہ جنگ بندی کے انتظامات لبنان پر لاگو نہیں ہوتے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button