تاریخ اسلام

20 شوال 179ہجری باب الحوائج امام موسی کاظم علیہ السلام کی جلاوطنی

20 شوال 179ہجری مدینہ سے عراق کی جانب اسیرِ غربت کا سفر

20 شوال 179ھ وہ اندوہناک دن ہے جب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو مدینۂ منورہ کی پاک فضاؤں سے جدا کر کے جلاوطنی کی راہ پر ڈال دیا گیا۔ یہ محض ایک سفر نہ تھا، بلکہ حق کے چراغ کو ایوانِ باطل کی دیواروں میں قید کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔

باب الحوائج امام موسیٰ کاظم علیہ السلام جیسی عظیم اور نورانی ہستی کا وجود عباسی سلطنت کے لئے ایک مستقل خوف بن چکا تھا۔ آپؑ اپنے زمانے کے امام، اللہ کی حجت، اور ہدایت کا روشن مینار تھے۔ اگرچہ حکمران زبان سے انکار کرتے تھے، مگر دل کی گہرائیوں میں وہ جانتے تھے کہ حق کس کے ساتھ ہے۔ آپؑ کی ذات ایسی تھی کہ جو بھی دیکھتا، اس کے دل پر سکون اور طمانیت کی ایک لطیف کیفیت چھا جاتی تھی۔

مگر اقتدار کی ہوس نے گمراہ عباسیوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھ دی تھی کہ انہیں نہ حق دکھائی دیتا تھا، نہ صداقت کی آواز سنائی دیتی تھی۔ یہی وہ اندھی محبت دنیا تھی جس نے انہیں اس مقام تک پہنچا دیا کہ وہ اللہ کی حجتوں کے درپے ہو گئے، جیسے کبھی دنیا کی طلب میں انبیاء علیہم السلام کو شہید کیا گیا تھا۔

ہارون الرشید کے دل میں یہ خوف راسخ ہو چکا تھا کہ امامؑ کی موجودگی اس کے تخت و تاج کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ چنانچہ اس نے امامؑ کو مدینہ سے بغداد بلوا لیا، ان پر کڑی نگرانی بٹھا دی، اور ان کے چاہنے والوں تک کو نظر میں رکھنا شروع کر دیا۔ رات کی تاریکی میں، خاموشی کے پردے میں، امامؑ کو اس طرح لے جایا گیا کہ کہیں عوام کا سمندر بغاوت بن کر نہ اُمڈ آئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب عباسی حکومت کے خلاف کئی چنگاریاں بھڑکیں، کئی آوازیں اٹھیں، مگر انجام کار وہ سب خاموش کر دی گئیں۔ اسی لئے ہارون ہر لمحہ اس خوف میں مبتلا رہتا تھا کہ کہیں یہ خاموشی طوفان نہ بن جائے۔

کہا جاتا ہے کہ ہارون اپنے بیٹے محمد امین بن زبیدہ کو ولی عہد بنانا چاہتا تھا اور اس سلسلہ میں اپنے اقتدار کو مستحکم کرنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لئے بھی اسے امامؑ کی موجودگی ایک رکاوٹ محسوس ہوتی تھی۔ یوں اس نے سازشوں کا جال بچھایا، اور آخرکار امامؑ کو قید میں ڈال دیا۔

روایات میں ہے کہ اس نے روضۂ رسولؐ کے پاس کھڑے ہو کر معذرت کے انداز میں یہ جملے کہے کہ وہ موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کو قید کرنے جا رہا ہے، کیونکہ اسے امت میں انتشار کا خوف ہے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ یہ سب اقتدار کی بقا کا کھیل تھا، ایک ایسا کھیل جس میں صداقت کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔

یہ کیسا نفاق تھا کہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور عذر پیش کیا جا رہا تھا اور دوسری طرف انہی کے فرزند کو اذیت دی جا رہی تھی۔ ہارون اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت سے ناواقف نہ تھا، مگر اقتدار کی مستی نے اسے اندھا کر دیا تھا۔

بعض روایات میں ہے کہ جب اس نے امامؑ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا تو عوامی ردعمل کے خوف نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اور ایک موقع پر خواب کی دہشت نے بھی اسے لرزا دیا، جس کے بعد اس نے وقتی طور پر امامؑ کو رہا کر دیا۔

مگر افسوس! یہ بیداری لمحاتی ثابت ہوئی۔ وہ پھر اپنی گمراہی کی طرف لوٹ گیا، اور آخرکار اسی نے اس نورِ ہدایت کو قید ہی میں زہر دے کر شہید کر دیا۔

وہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ وہ نورِ ولایت کو بجھا دے گا، مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ حق کی روشنی نہ قید ہوتی ہے، نہ مٹتی ہے۔ اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہتا ہے، چاہے باطل کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button