روانڈا میں نسل کشی کی 32ویں برسی کی یاد اور 1994 کے المیہ کے بعد مسلم معاشرے کی نمایاں ترقی
روانڈا میں نسل کشی کی 32ویں برسی کی یاد اور 1994 کے المیہ کے بعد مسلم معاشرے کی نمایاں ترقی
روانڈا میں توتسیوں کے خلاف 1994 میں ہونے والی نسل کشی کی بتیسویں برسی کے موقع پر متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور بچ جانے والوں کا احترام کیا گیا۔
یہ نسل کشی بیسویں صدی کے بڑے سانحات میں شمار ہوتی ہے، جس میں ہزاروں افراد جان سے گئے اور روانڈا کا معاشرہ شدید انسانی بحران کا شکار ہوا۔
اس سانحہ کے بعد روانڈا میں اسلام نے نمایاں ترقی کی ہے اور اب ایک منظم اور متحرک اقلیت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور اسلامی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی تعداد تقریباً 15 لاکھ بتائی جاتی ہے، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 10 سے 15 فیصد بنتی ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد شہری علاقوں میں، خاص طور پر کیگالی کے علاقے نیاروجینگے میں مقیم ہے۔
روانڈا میں اسلام کے فروغ کی وجوہات میں نسل کشی کے دوران مسلمانوں کا ہزاروں جانوں کو بچانے میں اخلاقی کردار، تبلیغی سرگرمیاں، سماجی خدمات اور 2000 کے بعد ملنے والی قانونی حمایت شامل ہیں۔
اس وقت روانڈا بھر میں 500 سے زائد مساجد اور متعدد اسلامی مراکز موجود ہیں، جبکہ "انجمن مسلمانان روانڈا” (AMUR) مذہبی امور کی نگرانی اور حکومت سے رابطے کی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان روانڈا میں سماجی بحالی اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ میں مسلمانوں کے مسلسل کردار کی عکاسی کرتا ہے۔



