افغانستان

افغانستان میں خواتین کے خلاف پابندیاں برقرار، جبکہ یونیسف لاکھوں افراد کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے

افغانستان میں خواتین کے خلاف پابندیاں برقرار، جبکہ یونیسف لاکھوں افراد کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے

افغانستان میں جہاں صحت کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں، وہیں رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال لاکھوں افراد نے طبی خدمات سے فائدہ اٹھایا۔

تاہم خواتین پر عائد پابندیوں نے ان سہولیات تک منصفانہ رسائی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں 20 ملین سے زائد افراد کو طبی خدمات فراہم کی گئیں، جن میں نمایاں تعداد خواتین کی ہے۔

یہ خدمات ایسے حالات میں مہیا کی گئیں جب ملک کے کئی علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی اور وسیع انسانی مسائل موجود ہیں، اور بین الاقوامی امداد کی ضرورت بدستور برقرار ہے۔

"روزنامہ 8 صبح” کے مطابق اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف نے اعلان کیا ہے کہ ان خدمات سے مستفید ہونے والوں میں تقریباً 60 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ یہ امداد ایشیائی بینک کے تعاون سے فراہم کی گئی۔

دوسری جانب بین الاقوامی اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین پر عائد پابندیاں، جیسے بغیر محرم کے طبی مراکز تک رسائی پر پابندی اور بعض طبی اشیاء پر ممانعت، نے خواتین کی علاج تک رسائی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button