عالمی یوم صحت؛ شعور و عمل کے درمیان تشویشناک فاصلہ

۷ اپریل، عالمی یوم صحت کی آمد کے ساتھ، طرزِ زندگی میں صحت کا مسئلہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
یہ وہ موضوع ہے جو وسیع آگاہی کے باوجود عملی سطح پر غفلت و بےتوجہی کا شکار ہے، اور اس کے نتائج امراضِ مزمن اور ذہنی پریشانیوں کی صورت میں نمایاں ہو رہے ہیں۔
میرے ہمکار نے اس موضوع پر ایک رپورٹ تیار کی ہے جسے ہم مل کر دیکھتے ہیں:
۷ اپریل، عالمی یوم صحت کی آمد کے موقع پر، روزمرہ طرزِ زندگی میں صحت کی اہمیت کا احساس دلانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
صحت بادیٔ النظر میں ایک انفرادی معاملہ معلوم ہوتی ہے، تاہم درحقیقت یہ انسانی اور اجتماعی حیات کی بنیادی اساسوں میں سے ایک ہے۔
جدید زندگی میں جو چیز پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے، وہ اصولِ صحت کو جاننے اور ان پر عمل کرنے کے درمیان کا فاصلہ ہے۔
یہ فاصلہ غذا میں غلط عادات، کمحرکتی، نیند کی خرابی اور ذہنی دباؤ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت سمیت بینالاقوامی ادارہہائے صحت کی رپورٹوں کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ غیر متعدی امراض کا بڑا حصہ ناصحتمند طرزِ زندگی میں اپنی جڑیں رکھتا ہے۔
یہ وہ مسائل ہیں جن کا روزمرہ رویوں کی اصلاح سے سدِّ باب ممکن ہے۔
یہ رپورٹیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ امراض کے بوجھ کو کم کرنے میں علاج کی بہ نسبت احتیاط و پرہیز کا کردار بنیادیتر ہے۔
دینی نقطۂ نظر سے صحت محض ایک جسمانی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک الٰہی امانت تصور کی جاتی ہے جس کے بارے میں انسان جوابدہ ہے۔
قرآن کریم کی آیاتِ مبارکہ کی رو سے جسم و روح کی صحت سے کسی بھی قسم کی غفلت، اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی مصداق قرار پا سکتی ہے۔
یہ نگاہ طرزِ زندگی کے حوالے سے فرد کی ذمہداری کو نمایاں کرتی ہے۔
دوسری جانب، شعبۂ صحت کے بعض تجزیاتی ذرائعِ ابلاغ کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ روزمرہ عادات کی تشکیل میں خاندان اور میڈیا کا کردار نہایت فیصلہکن ہے۔
غلط اشیاء کے استعمال کے نمونوں کا فروغ اور جسمانی سرگرمی و ذہنی سکون سے بےتوجہی ان عوامل میں سے ہے جو آہستہ آہستہ صحت کو حاشیے پر دھکیل دیتے ہیں۔
ایسے حالات میں غذا، نیند اور جسمانی سرگرمی میں اعتدال کی طرف بازگشت، اصیل دینی تعلیمات پر توجہ کے ساتھ مل کر، اصلاح کی راہ کو ہموار کر سکتی ہے۔
طرزِ زندگی میں چھوٹی لیکن پائیدار تبدیلیاں نہ صرف بہت سے امراض سے محفوظ رکھتی ہیں، بلکہ صحت کو انسان کی روزمرہ زندگی کا ایک مستقل حصہ بنا دیتی ہیں۔
عالمی یوم صحت کی اہمیت کے پیشِ نظر، صحت میں طرزِ زندگی کے کردار کے بارے میں عوامی شعور کا ارتقاء، صحتمند عادات کا فروغ اور خاندانوں و معاشروں کے لیے ایک معاون ماحول کی تشکیل، امراض میں کمی اور معیارِ زندگی کی بہتری کا سبب بن سکتی ہے۔
صحت کی طرف مسلسل توجہ، کسی وقتی اقدام کے طور پر نہیں بلکہ انسانی شناخت کے حصے اور ہمیشگی ذمہداری کے طور پر، نعمتِ صحت کے تحفظ اور جسمانی و ذہنی نقصانات سے بچاؤ کی ایک مؤثر راہ ہے۔




