شام میں شیعہ افراد کے ٹارگٹ کلنگ اور اغوا؛ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ
شام میں شیعہ افراد کے ٹارگٹ کلنگ اور اغوا؛ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ
شام میں شیعہ حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویز کرنے والے ایک مرکز نے اپنی نئی رپورٹ میں دیر الزور میں ایک شیعہ نوجوان کے قتل اور اغوا، گرفتاریوں اور فرقہ وارانہ دھمکیوں میں اضافے کی خبر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسامہ علی الخلف الهلال نامی نوجوان چند دن حراست میں رہنے کے بعد قتل ہو گیا، اور اس کی لاش پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے۔
الجزیرہ کے مطابق حال ہی میں لبنان سے واپس آنے والے شیعہ افراد کو سرحدی راستوں پر عارضی حراست، طویل تفتیش اور نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔
حلب، نبل اور الزہرا میں بھی کئی بار شیعہ افراد پر مسلح حملے ہوئے، جن میں کچھ لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
اس مرکز نے دمشق میں شیعہ مخالف شدت پسند نعروں اور فتووں کا ذکر کرتے ہوئے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے آزادانہ تحقیقات اور اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے فرقہ وارانہ اقدامات سے شام کی سماجی یکجہتی اور امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور شیعہ خاندانوں کی اپنے علاقوں میں واپسی مزید مشکل بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر سیاسی اور قانونی دباؤ ضروری ہے۔




