نیویارک کے میئر کی مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی کی مخالفت، فوری خاتمے کا مطالبہ

بدھ کے روز نیویارک کے میئر زهران ممدانی نے ایک اہم انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے یہ گفتگو معروف سیاسی مبصر برایان تایلر کوهن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کی۔
میئر نے واضح طور پر کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نہ صرف حکمتِ عملی کے اعتبار سے بلکہ اخلاقی اور سیاسی بنیادوں پر بھی ناقابلِ قبول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تنازع ایک ایسی تباہی کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کی ہر سطح پر مخالفت ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ پر بے پناہ مالی وسائل خرچ ہو رہے ہیں، جو درحقیقت عوامی فلاح و بہبود اور معاشی بہتری پر صرف کئے جا سکتے تھے۔
ان کے مطابق عام شہری جنگ نہیں بلکہ امن، استحکام اور بہتر زندگی کے خواہاں ہیں، اور وہ کسی نئی جنگ یا نظام کی تبدیلی کے لیے مزید خونریزی نہیں چاہتے۔
خبر رساں ایجنسی The Hill کے مطابق، نیویارک کے میئر نے ان حملوں کو “ایک غیر قانونی جارحانہ جنگ کی تباہ کن شدت” قرار دیا اور اس کے سنگین انسانی نتائج کی نشاندہی کی، جن میں شہری علاقوں کی بمباری اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں شامل ہیں۔
انٹرویو کے اختتام پر میئر نے عالمی برادری اور سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ ایسے تنازعات کے انسانی اور معاشی نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سنجیدہ اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لئے پرامن ذرائع اور فعال سفارتکاری کو اپنانا ناگزیر ہے، کیونکہ یہی راستہ عام شہریوں کو مزید نقصان سے بچا سکتا ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کی امید کو تقویت دے سکتا ہے۔



