ایشیاءخبریں

ٹوکیو جامع مسجد کے افتتاح کی پچیسویں سالگرہ—جاپان میں مسلمانوں کی مستقل موجودگی کی علامت

جاپان میں مقیم مسلمانوں نے ایک باوقار اور روحانی تقریب کے ذریعہ ٹوکیو جامع مسجد کے افتتاح کی پچیسویں سالگرہ منائی۔

یہ تقریب نہ صرف ایک مذہبی اجتماع تھی بلکہ ایک غیر اسلامی معاشرے میں مسلم شناخت، تاریخ اور ثقافتی تسلسل کی بھرپور عکاسی بھی تھی۔

ذرائع کے مطابق، ٹوکیو جامع مسجد کی بنیاد 1930 کی دہائی میں مقامی مسلمانوں اور جنوبی ایشیا و مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے مہاجرین نے رکھی تھی۔

اس مسجد کا انتظام زیادہ تر خودمختار رہا ہے اور یہ جاپان میں مسلمانوں کے لئے ایک مرکزی دینی و ثقافتی ادارے کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔ یہاں اسلامی تعلیم، بین المذاہب مکالمہ اور سماجی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔

سالگرہ کی اس خصوصی تقریب میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔

گزشتہ برسوں میں یہ مسجد جاپان میں مسلمانوں کی اہم ترین شناخت بن کر ابھری ہے۔

یہ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ اسلامی ثقافت کے تعارف اور مقامی معاشرے کے ساتھ روابط کے استحکام کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔

تقریب کے دوران جاپان کی قدیم و جدید مساجد کی تصاویر پر مشتمل ایک خصوصی نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس میں ملک میں مسلمانوں کی تاریخی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔

اس موقع پر عبدالرشید ابراہیم کی زندگی اور خدمات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ وہ ٹوکیو مسجد کے پہلے امام تھے اور انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں جاپان میں مسلم معاشرے کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

واضح رہے کہ ٹوکیو کی پہلی مسجد 1938 میں قائم ہوئی تھی، جو اس ملک میں مسلمانوں کی موجودگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

موجودہ جامع مسجد اسی تاریخی تسلسل کی ایک جدید کڑی ہے، جسے نئی نسل کی دینی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے۔

یہ تقریب ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب جاپان میں مسلمانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی مذہبی و ثقافتی سرگرمیاں بھی وسعت اختیار کر رہی ہیں۔

ٹوکیو جامع مسجد جیسے ادارے نہ صرف اسلام کے تعارف کا ذریعہ ہیں بلکہ ثقافتی ہم آہنگی اور مکالمے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

تقریب میں شریک بعض افراد نے اس بات پر زور دیا کہ مساجد کو نوجوان نسل کی ضروریات کے مطابق مزید فعال بنایا جائے اور تعلیمی و ثقافتی پروگرامز کو وسعت دی جائے۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، مہاجر مسلمانوں اور غیر ملکی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ایسے مراکز کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے، جو کمیونٹی کے استحکام اور معاشرتی روابط کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی تقریبات مختلف مذاہب کے درمیان باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور بہتر تفہیم کو فروغ دیتی ہیں۔

ٹوکیو جامع مسجد کی یہ سالگرہ اس عزم کی عکاس ہے کہ جاپان میں مسلمان اپنی دینی و ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ورثے کی حفاظت کے لئے مسلسل کوشاں ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button