اسلامی دنیاتاریخ اسلام

شیخ بهایی؛ اپنے عہد کے نادر روزگار عالم، جنہوں نے علم، فقہ اور انجینئرنگ کو جوڑ کر شیعہ تہذیب کی تعمیر کی

12 شوال؛ یوم وفات جناب شیخ بہائی رحمۃ اللہ علیہ

جناب شیخ بہائی رحمۃ اللہ علیہ ایک ایسے عالم تھے جنہوں نے علم کو درسگاہوں سے نکال کر عوامی زندگی کا حصہ بنایا اور فقہ، حکمت اور انجینئرنگ کے امتزاج سے ایک حیرت انگیز تمدنی ورثہ چھوڑا۔

شیخ بہایی رحمۃ اللہ علیہ محض ایک فقیہ نہیں تھے بلکہ وہ عمل و دانش کے علمبردار تھے۔ جو علم انہوں نے حاصل کیا، اسے معاشرے اور عوام کی خدمت کے لئے بروئے کار لائے، اور اسی وجہ سے انہیں “اعجوبۂ دہر” کہا گیا۔

ان کا علمی و عملی ورثہ، خصوصاً اصفہان اور دیگر شہروں میں موجود، صرف عمارات تک محدود نہیں بلکہ علم کو سماجی تعمیر کا ذریعہ بنانے کے ایک جامع نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔

صفوی دور میں شیخ بہائی رحمۃ اللہ علیہ نے شیعہ تہذیب کے فروغ اور سماجی ہم آہنگی کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے عبادت گاہوں کی منصوبہ بندی، شہری ڈھانچے کی ترتیب اور آبی نظام کی تشکیل میں علم کو عملی میدان سے جوڑا۔

فقہ، نجوم اور فنِ تعمیر میں ان کی مہارت نے دینی علوم اور سائنسی علوم کے درمیان ایک مثالی ربط قائم کیا۔

ان کی نمایاں خدمات میں مدرسہ شیخ بہائی رحمۃ اللہ علیہ شامل ہے، جبکہ پل اللہ‌وردی خان، مسجد امام، شیخ بهایی کا مشہور حمام اور رصدگاہ جیسے منصوبے ان کی غیر معمولی انجینئرنگ اور تخلیقی ذہانت کے مظہر ہیں۔

باوجود اس عظیم ورثے کے، شیخ بهایی کا تمدنی مقام آج بھی پوری طرح متعارف نہیں ہو سکا۔

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق “علم بغیر عمل باقی نہیں رہتا”، اور شیخ بهائی رحمۃ اللہ علیہ اس اصول کی زندہ مثال تھے، جنہوں نے علم کو عمل میں ڈھال کر عوام کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔

شیخ بہائی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار مشہد میں حرم امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں واقع ہے۔‌

جہاں وہ اپنی زندگی میں تدریس کیا کرتے تھے۔ آج یہ مقام نہ صرف زائرین بلکہ تاریخ اور شیعہ تہذیب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بھی مرکزِ توجہ ہے، جو ان کی خدمات اور یادگار کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق، شیخ بهایی کی شخصیت آج کے دور کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے—جہاں علم کو محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی اور عوامی خدمت کے ساتھ جوڑنے کی اشد ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button