سچ کی روشنی اور جھوٹ کا اندھیرا

انسانی شخصیت کا سب سے نازک اور سب سے طاقتور پہلو اس کی زبان ہے۔ یہی زبان فکر کو شکل دیتی ہے، تعلقات کو جوڑتی ہے اور معاشروں کی بنیادیں استوار کرتی ہے۔ جب یہی زبان سچائی کے نور سے مزین ہو تو انسان کے وجود میں ایک وقار، ایک سکون اور ایک اعتماد پیدا ہوتا ہے، اور جب یہی زبان جھوٹ کے اندھیرے میں ڈوب جائے تو شخصیت کا توازن بگڑ جاتا ہے، کردار کی عمارت متزلزل ہو جاتی ہے اور سماجی رشتوں میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اسی حقیقت کی ترجمان ہیں کہ سچائی محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کا بنیادی ستون ہے، جبکہ جھوٹ ایک ایسا زہر ہے جو انسان کے ظاہر و باطن دونوں کو آلودہ کر دیتا ہے۔
سچائی کو صرف ایک اخلاقی قدر کے طور پر نہیں بلکہ ایک معرفتی اصول کے طور پر بھی سمجھنا ضروری ہے۔ سچ وہ معیار ہے جس کے ذریعہ علم کی صداقت جانچی جاتی ہے۔ اگر سچائی کا معیار ختم ہو جائے تو علم، خبر، تحقیق اور تجزیہ سب اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں "صدق” کو "برّ” (نیکی) کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور جھوٹ کو "فجور” (گناہ) کے ساتھ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی صرف ایک انفرادی عمل نہیں بلکہ ایک علمی و تہذیبی نظام کی بنیاد ہے۔
موجودہ دور میں اس بنیاد کو سب سے زیادہ چیلنج ذرائع ابلاغ اور اطلاعاتی نظام سے درپیش ہے۔ میڈیا، جو نظریاتی طور پر سچائی کا محافظ ہونا چاہیے تھا، کئی مواقع پر مفادات، سیاست اور طاقت کے زیرِ اثر ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیتا نظر آتا ہے۔ وہ اسی رجحان کی علامت ہے جہاں خبر کو غیر جانب دارانہ انداز میں پیش کرنے کے بجائے ایک خاص زاویے سے دکھایا جاتا ہے۔ یہاں سچ کو مکمل طور پر چھپایا نہیں جاتا بلکہ اسے اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ حقیقت کا توازن بگڑ جائے۔ آدھا سچ، دراصل ایک مکمل جھوٹ سے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہوتا ہے کیونکہ وہ شعور کو دھوکہ دیتا ہے اور انسان کو اپنی غلطی کا احساس بھی نہیں ہونے دیتا۔
یہی صورتحال عالمی سیاست میں بھی نمایاں ہے۔ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی صرف عسکری یا سیاسی نوعیت کی نہیں بلکہ ایک اطلاعاتی و بیانیاتی جنگ بھی ہے۔ ہر فریق اپنی پالیسیوں اور اقدامات کو درست ثابت کرنے کے لئے ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیتا ہے، جس میں سچ اور مفاد اس طرح خلط ملط ہو جاتے ہیں کہ عام انسان کے لئے حقیقت تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں جھوٹ صرف ایک اخلاقی برائی نہیں رہتا بلکہ ایک اسٹریٹجک ٹول بن جاتا ہے، جس کے ذریعہ رائے عامہ کو ہموار کیا جاتا ہے اور فیصلوں کو جواز فراہم کیا جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں "اپریل فول” جیسی روایت کو محض ایک ہلکے پھلکے مذاق کے طور پر دیکھنا ایک سطحی رویہ ہے۔ درحقیقت یہ ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو جھوٹ کو معمولی اور قابلِ قبول بنا دیتی ہے۔ جب ایک معاشرہ اجتماعی طور پر ایک دن جھوٹ بولنے کو "تفریح” کے نام پر قبول کر لیتا ہے تو وہ دراصل اپنے اخلاقی معیارات کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔ یہ وہی نفسیاتی عمل ہے جسے سماجی علوم میں "غلطی کو آہستہ آہستہ معمول بنا لینا۔” کہا جاتا ہے، یعنی کسی غلط عمل کا بتدریج معمول بن جانا۔ ابتدا میں جو چیز غیر اخلاقی محسوس ہوتی ہے، وقت کے ساتھ وہی قابلِ قبول بن جاتی ہے، اور یہی مرحلہ کسی بھی اخلاقی زوال کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے۔
توجہ رہے کہ سچ اور جھوٹ کا تقابل ایک گہری معنویت رکھتا ہے۔ سچائی ایک دریا کی مانند ہے جو خاموشی سے بہتا ہے، راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو عبور کرتا ہے اور آخرکار سمندر تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ ایک جھاگ کی طرح ہوتا ہے جو سطح پر ابھرتا ہے، کچھ دیر چمکتا ہے اور پھر مٹ جاتا ہے۔ سچائی میں استحکام ہے، گہرائی ہے اور تسلسل ہے، جبکہ جھوٹ میں اضطراب ہے، سطحیت ہے اور ناپائیداری ہے۔
نفسیاتی طور پر بھی سچائی انسان کے اندر ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ جب انسان سچ بولتا ہے تو اس کے اندر تضاد نہیں رہتا؛ اس کا ظاہر اور باطن ایک ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ انسان کے اندر ایک داخلی کشمکش پیدا کرتا ہے، کیونکہ اسے ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے مزید جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جھوٹا انسان کبھی حقیقی سکون حاصل نہیں کر پاتا، جبکہ سچا انسان مشکلات کے باوجود ایک باطنی اطمینان سے بہرہ مند ہوتا ہے۔
آج کے پیچیدہ دور میں سچائی کا تقاضہ صرف یہ نہیں کہ انسان جھوٹ نہ بولے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ تحقیق، تنقید اور شعور کے ساتھ معلومات کو پرکھے۔ ہر خبر کو قبول کرنا، ہر بات کو آگے بڑھانا اور ہر بیانیے کو سچ مان لینا دراصل جھوٹ کے نظام کو تقویت دینا ہے۔ ایک باشعور فرد وہی ہے جو سچ کی تلاش میں محنت کرے، سوال اٹھائے اور اپنی رائے کو دلیل اور حقیقت کی بنیاد پر قائم کرے۔
آخر میں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سچائی ایک اخلاقی انتخاب سے بڑھ کر ایک وجودی فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ طے کرتا ہے کہ انسان کس قسم کی زندگی گزارنا چاہتا ہے: ایک ایسی زندگی جو وقتی فائدوں اور مصنوعی خوشیوں پر قائم ہو، یا ایک ایسی زندگی جو اصول، دیانت اور دائمی سکون پر مبنی ہو۔ سچائی کا راستہ بظاہر کٹھن ہو سکتا ہے، مگر اس کا انجام روشنی ہے، جبکہ جھوٹ کا راستہ بظاہر آسان مگر انجام میں تاریکی ہے۔
کامیاب وہی ہے جو اس روشنی کو پہچان لے، اسے تھام لے اور اپنے قول و عمل کو اس کے مطابق ڈھال لے، کیونکہ سچائی صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو خود اس کی بہترین شکل میں ڈھال دیتی ہے۔




