ہیٹی میں گینگ تشدد کے دوران قتلِ عام، کم از کم 70 افراد جاں بحق
ہیٹی میں گینگ تشدد کے دوران قتلِ عام، کم از کم 70 افراد جاں بحق
ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے رپورٹ کیا ہے کہ ہیٹی کے آرٹیبونائٹ علاقے میں ہونے والے حملے میں کم از کم 70 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے، جو حکومتی اندازے کے 16 اموات سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ رپورٹ رائٹرز نے جاری کی ہے۔
یہ حملہ اتوار کی صبح پیٹائٹ ریویر اور ژاں دینی کے قریب سے شروع ہوا، جس میں مسلح گینگ نے بستیوں پر دھاوا بول دیا، گھروں کو آگ لگا دی اور ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔
حقوقی تنظیم Défenseurs Plus کے مطابق 6000 افراد بے گھر ہوئے، جبکہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق اس سے قبل کے دنوں میں قریبی گینگ حملوں کے باعث 2000 سے زائد افراد اپنے گھر چھوڑ چکے تھے۔ پولیس نے بکتر بند گاڑیاں روانہ کیں لیکن وہ زیادہ تر تباہی کے بعد پہنچی، جس میں تقریباً 50 گھر جلا دیے گئے تھے۔
حکام نے اس حملے کی ذمہ داری گران گریف گینگ پر عائد کی، جو بظاہر حریف گروہوں سے انتقام لے رہا تھا۔ ہیٹی میں جاری گینگ تنازع 2021 سے اب تک تقریباً 20000 افراد کی جانیں لے چکا ہے اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی، معاشی بدحالی اور عدم تحفظ کا باعث بن رہا ہے۔ امریکہ نے منظم گینگوں کو دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کیا ہے۔




