دنیا

اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کا بل منظور کر لیا

اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کا بل منظور کر لیا

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ایک متنازع قانون پاس کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ ویسٹ بینک میں مہلک حملوں کے جرم میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون نے بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت اور قانونی چیلنجوں کو جنم دیا ہے۔

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے پیر 30 مارچ کو یہ نیا قانون منظور کیا، جس کے مطابق فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کے طور پر درجہ بند مہلک حملوں کے مرتکب فلسطینیوں کو سزائے موت دی جائے گی۔ یہ قانون وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کی حمایت سے منظور ہوا اور اسرائیل کی تعزیراتی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

اس قانون کے تحت عدالتیں سادہ اکثریت سے سزائے موت سنا سکتی ہیں، اس کے لیے سرکاری وکیل کی درخواست لازمی نہیں ہوگی۔ سزا سنائے جانے کے 90 دن کے اندر پھانسی دیے جانے کی توقع ہے، تاخیر کے امکانات محدود ہوں گے اور سزا یافتہ افراد کو معافی کا حق بھی حاصل نہیں ہوگا۔

یہ قانون بنیادی طور پر مقبوضہ ویسٹ بینک کی فوجی عدالتوں میں زیرِ سماعت فلسطینیوں پر لاگو ہوگا، تاہم بعض مقدمات میں عمر قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون اپیل کے راستے عملاً بند کر دیتا ہے اور عدالتی صوابدید کو محدود کرتا ہے۔

اسرائیل نے سزائے موت کو بہت کم استعمال کیا ہے اور 1954 میں قتل کے جرم میں اسے ختم کر دیا تھا۔ اب تک کی واحد معروف پھانسی نازی افسر ایڈولف آئشمان کو 1962 میں دی گئی تھی۔

اس قانون پر فلسطینی حکام، اسرائیلی حقوقی تنظیموں اور عالمی اداروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنائے گا اور کشیدگی کو مزید ہوا دے گا۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور یورپی حکومتوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ قانون حقِ حیات کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے اور بیرونِ ملک اسرائیلی حکام کو قانونی نتائج سے دوچار کر سکتا ہے۔

یہ قانون اسرائیل کی سپریم کورٹ میں بھی قانونی چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے، جہاں حقوقی تنظیموں نے اس کے نفاذ کو روکنے یا کالعدم قرار دینے کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔ ایسوسی ایشن فار سول رائٹس ان اسرائیل (ACRI) نے پیر کو ہائی کورٹ آف جسٹس میں درخواست دائر کر کے عدالت سے اس قانون کو ختم کرنے اور فیصلے تک اس کے نفاذ کو معطل رکھنے کا عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button