قطیف میں شیعہ عالم دین شیخ حسن المطوع کی گرفتاری
قطیف میں شیعہ عالم دین شیخ حسن المطوع کی گرفتاری
سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع قطیف کے معروف شیعہ عالمِ دین، شیخ حسن المطوع کو بغیر کوئی سرکاری وجہ بتائے اور منصفانہ سماعت کا موقع دیے بغیر گرفتار کر لیا گیا۔
یہ واقعہ اُس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں برسوں سے شیعہ مسلمانوں کو بے بنیاد الزامات، من مانی گرفتاریوں اور قانونی حقوق سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی صحافتی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے بہت سے شیعہ افراد — جن میں دینی اور سماجی کارکن بھی شامل ہیں — محض اپنے مذہبی عقیدے کی وجہ سے یا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے جُرم میں اندر کر دیے گئے ہیں، اور انھیں اپنی صفائی پیش کرنے کا کوئی قانونی موقع تک نہیں دیا گیا۔
یہ گرفتاریاں اکثر اہلِ خانہ کو اطلاع دیے بغیر اور وکیل تک رسائی کے بغیر انجام پاتی ہیں، اور سعودی حکام مقدمات کی تفصیلات سامنے لانے سے گریز کرتے ہیں۔
ویب سائٹ "احوال القطیف” کی رپورٹ کے مطابق، یہ جبر اس بات کی علامت ہے کہ سکیورٹی کے بحرانوں اور پابندیوں کو شیعہ برادری پر دباؤ بڑھانے کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، انسانی حقوق کے کارکنان نے تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی اور منصفانہ سماعت کی ضمانت کے لیے بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
اس جبر کی تاریخ بتاتی ہے کہ قطیف، احساء اور دمام جیسے علاقوں میں شیعہ مسلمان بارہا سخت مذہبی، سیاسی اور سماجی پابندیوں کا شکار ہوتے رہے ہیں۔
بے جواز گرفتاریاں، مذہبی تقریبات پر روک اور معاشی و سماجی دباؤ — یہ سب مل کر اس برادری کے انسانی حقوق اور تحفظ کے بارے میں خدشات کو بڑھا رہے ہیں، اور سماجی کارکنان ایسی پالیسیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔




