خبریںسعودی عرب

سعودی عرب کے نمائشی منصوبوں میں لرزش

سعودی عرب کے بڑے منصوبوں، خاص طور پر نیوم کے منصوبے، میں کمی اور نظرثانی نے ایک بار پھر اس بات پر شکوک و شبہات کو تقویت دی ہے کہ آیا یہ ملک اپنے بلند و بالا اقتصادی ارادوں کو حقیقت میں ڈھالنے کی سچ مچ صلاحیت رکھتا ہے۔ ساتھ ہی یہ اعلانات اور زمینی حقیقت کے درمیان خلیج کو بھی عیاں کرتی ہے۔

ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

گزشتہ چند برسوں میں سعودی عرب نے بڑے اور مہنگے منصوبے پیش کرکے اپنی معیشت کا نیا چہرہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن تازہ حالات بتاتے ہیں کہ یہ منصوبے سنگین اور ڈھانچہ جاتی مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔ اب بعض اہم منصوبوں سے پسپائی کے آثار نے اس سوال کو اور تیز کر دیا ہے کہ کیا یہ وعدے شروع ہی سے حقیقی بنیادوں پر قائم تھے، یا محض نمائش اور تشہیر کی خاطر تھے۔

فائنینشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نیوم کے بعض حصوں پر نظرثانی کر رہا ہے اور "ترجینا” کے منصوبے کو سکیڑ دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں دو اہم معاہدے، یعنی بند باندھنے اور فولادی ڈھانچوں کی فراہمی کے، منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ یہ قدم اس منصوبے پر مالی اور عملی دباؤ کی گواہی دیتا ہے۔ اس اخبار نے زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات، بار بار کی تاخیر اور اقتصادی ترجیحات میں تبدیلی نے سعودی حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔

یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں آ رہی ہیں جب کافی عرصے سے بہت سے ماہرین سعودی عرب کی ایسے عظیم الشان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی اہلیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ خاطر خواہ صنعتی بنیادی ڈھانچے کا فقدان، تیل کی آمدنی پر حد سے زیادہ انحصار اور پیچیدہ منصوبوں کے انتظام میں کمزوری، وہ عوامل ہیں جن کا تجزیہ نگار بار بار ذکر کرتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی نے بھی سعودی معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا ہے۔ سلامتی کے اخراجات میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی وجہ سے نیوم جیسے منصوبے اور بھی سنگین مشکلات سے گھر گئے ہیں۔ ایسے حالات میں "ترجینا” کے منصوبے کا سکڑنا، جو ایشیائی ونٹر گیمز کی میزبانی کے لیے مخصوص تھا، ابتدائی اہداف سے رفتہ رفتہ پیچھے ہٹنے کی واضح نشانی سمجھی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر یہ تمام عوامل بتاتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں پیش کیے گئے بیشتر اقتصادی وعدے، حقیقی معاشی بنیادوں پر کھڑے ہونے کی بجائے، ایک تشہیراتی بلبلے سے زیادہ نہیں تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب جب ڈھانچہ جاتی کمزوریاں سامنے آ رہی ہیں، تو اس بلبلے کے پھوٹنے کے آثار پہلے سے کہیں زیادہ صاف دکھائی دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button