خبریںدنیا

دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں میں تشویشناک اضافہ؛ طاقتوں کی دوڑ اور انسانیت کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ

حالیہ رپورٹس میں دنیا بھر میں ایٹمی وارہیڈز کی تعداد میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر فوجی کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث مستقبل کی عالمی سلامتی اور کسی بڑے انسانی سانحہ کے خطرات پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے آپ کی توجہ اپنے ساتھی رپورٹر کی اس رپورٹ کی جانب مبذول کراتے ہیں۔

ایسے حالات میں جب دنیا سیکیورٹی بحرانوں اور وسیع پیمانے پر تنازعات کا شکار ہے، ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی کا رجحان ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی تشویش بن گیا ہے۔

ان ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ نہ صرف عالمی امن کے لئے براہِ راست خطرہ ہے بلکہ یہ عسکری طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی اسلحہ جاتی دوڑ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، گزشتہ سال دنیا میں فوری استعمال کے لیے تیار ایٹمی وارہیڈز کی تعداد 9,745 تک پہنچ گئی، جو اس سے پہلے سال کے مقابلے میں 141 زیادہ ہے۔

یہ رپورٹ امریکی سائنسدانوں کی فیڈریشن اور ناروے کی عوامی تنظیم کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں اس رجحان کو “تشویشناک” قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، تقریباً تمام 9 ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک—روس، امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ، پاکستان، بھارت، اسرائیل اور شمالی کوریا—یا تو اپنے ایٹمی ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں یا اس حوالے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت تصور سے کہیں زیادہ ہے۔ اندازے کے مطابق، ان تمام وارہیڈز کی مجموعی طاقت تقریباً 1 لاکھ 35 ہزار ہیروشیما جیسے ایٹم بموں کے برابر ہے۔ یاد رہے کہ 1945 میں ہیروشیما پر گرائے گئے ایک ہی بم نے تقریباً 140000 افراد کی جان لے لی تھی۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دنیا ایک خطرناک اسلحہ جاتی دوڑ کی طرف بڑھ سکتی ہے، جس سے تباہ کن جنگوں کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے بین الاقوامی معاہدوں کو مضبوط بنانے اور ایٹمی ہتھیاروں کی مؤثر نگرانی پر زور دیا ہے، ساتھ ہی اس عالمی خطرے کو کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اسی تناظر میں بعض اسٹریٹجک ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلحہ کنٹرول معاہدوں کی کمزوری اور عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد میں کمی نے اس رجحان کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کے مطابق، اگر سنجیدہ مذاکرات اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم نہ کیا گیا تو دنیا ایک نئی ایٹمی دوڑ کے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

ایسی صورتحال جو نہ صرف ممالک کی سلامتی بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے بھی ایک غیر معمولی خطرہ بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button