تاریخ اسلامخبریںشیعہ مرجعیت

جنت البقیع کی تعمیر نو کے سلسلہ میں شہید آیۃ اللہ سید حسن شیرازی کی کوششیں

متعدد علمائے کرام، معزز شخصیات، اور دینی معاشرے کے مختلف طبقات بلکہ بعض سیاسی رہنماؤں نے بھی جنت البقیع میں مدفون ائمۂ اطہار علیہم السلام کے مقدس مزارات کی تعمیرِ نو کے لئے بھرپور کوششیں کیں۔ ان کوششوں میں فقیہ مجاہد شہید آیۃ اللہ سید حسن شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کا کردار نمایاں رہا۔

شہید آیۃ اللہ سید حسن شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقصد کے حصول کے لئے نہایت سنجیدگی اور محنت سے کام لیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے اہلِ سنت علماء سے مکالمہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ ان مقدس مزارات کی تعمیر نہ صرف جائز بلکہ مستحسن بھی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اہم اور مضبوط اقدامات کئے اور علماء کو تعمیرِ نو کے آغاز پر آمادہ بھی کر لیا، لیکن بعض رکاوٹوں کے باعث یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔

مرجع راحل آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "برادرِ شہیدم سید حسن شیرازی” میں "بقیع کی تعمیر کی کوششیں” کے عنوان سے لکھا ہے: "وہ (آیۃ اللہ سید حسن شیرازی) اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے تبلیغی مقاصد کے ساتھ حج کے لئے جاتے تھے۔ اپنے ان اسفار کے دوران وہ سعودی حکام اور سیاستدانوں سے ملاقاتیں کرتے اور بقیع مقدس کی تعمیر کے لئے ان پر زور دیتے۔ مسلسل ملاقاتوں اور گفتگو کے بعد انہوں نے ان سے بقیع کی تعمیر کا وعدہ بھی حاصل کر لیا تھا، لیکن عراق میں بعض عناصر نے سعودی علماء اور سیاستدانوں کو رشوت دے کر، اور عراقی حکومت کی سعودیوں کے ساتھ ملی بھگت کے نتیجے میں، ان کی یہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔”

اسی طرح آیۃ اللہ سید مرتضیٰ قزوینی نے لندن میں واقع حسینیہ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کہا: "عالمی اسلامی روابط کے سربراہ محمد بن سرور الصبان نے مجھے بتایا کہ آج بقیع کے قبرستان کے گرد جو دیوار موجود ہے، وہ مرحوم مرجع (آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی رحمۃ اللہ علیہ) اور ان کے شہید بھائی (آیۃ اللہ) سید حسن شیرازی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔”

یہ تمام واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جنت البقیع کے مزارات کی تعمیرِ نو کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کئے گئے، لیکن مختلف سیاسی اور خارجی رکاوٹوں نے اس عظیم مقصد کی تکمیل میں حائل ہو کر اسے پایۂ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button