اسلامی دنیا

مسلمانوں کے تمام فرقوں کو جنت البقیع کی تعمیر نو کے لئے آواز اٹھانی چاہیے؛ مولانا کلب جواد نقوی

مسلمانوں کے تمام فرقوں کو جنت البقیع کی تعمیر نو کے لئے آواز اٹھانی چاہیے؛ مولانا کلب جواد نقوی

لکھنؤ۔ جنت البقیع کے انہدام کے خلاف اور مزارات مقدسہ کی تعمیر نو کے لئے آج نماز جمعہ کے بعد آصفی مسجد میں سعودی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا۔احتجاج کی رہنمائی امام جمعہ مولانا کلب جواد نقوی نے کی ۔نمازیوں نے احتجاج میں جنت البقیع کے انہدام پر سعودی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے مقدس مزارات کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے آل سعود کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے اور سعودی فرماں روا محمد بن سلمان کی تصویر کو نذرآتش کرکے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔

مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ انہدام جنت البقیع کو سو سال مکمل ہوچکے ہیں مگر افسوس اب تک مقدس مزارات کی تعمیر نو نہیں ہوسکی ۔انہوں نے کہاکہ جنت البقیع کے لئے مسلمانوں کے تمام فرقوں کو آگے آنا چاہیے مگر افسوس ان کی طرف سے کوئی احتجاج نہیں ہوتا۔جنت البقیع میں پیغمبر اسلامؐ کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا ؑ، پیغمبر اسلامؐ کی ازواج مطہراتؓ اور اصحاب کرامؓ کی قبریں ہیں، اس کے باوجود مسلمانوں کی طرف سے ان کی قبروں کے انہدام پر خاموشی ہے، اس سے زیادہ مسلمانوں کی بے غیرتی اور کیا ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ مسلمان مولوی تو سعودی عرب اور استعمار کے زرخرید ہیں اس لئے وہ کبھی سعودی عرب کے جرائم کے خلاف زبان نہیں کھول سکتے ۔

مولانانے آگے کہاکہ معلوم ہوناچاہیے کہ آخر یہ مسلم حکمران استعمار کے خلاف خاموش کیوں ہیں۔ مسلمانوں پر ظلم ہوتے ہیں مگر مسلم حکومتیں مذمت تک نہیں کرتیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حکمران یہودی مائوں کے بیٹے ہیں ، ان میں کوئی مسلمان نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ملکوں کے عوام اب بیدار ہورہے ہیں لیکن وہاں کی حکومتیں استعمار کی غلام ہیں ۔غلاموں سے ہم کبھی یہ توقع نہیں کرسکتے کہ وہ مظلوم کی حمایت اور جنت البقیع کی تعمیر نو کے لئے عملی اقدامات کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ سعودی سرکار مقدس مزارات کی تعمیر نو کرے یا ہمیں تعمیر نو کی اجازت دی جائے ۔

مظاہرے میں مولانا سید کلب جوادنقوی، مولانا قربان علی، مولانا اصطفیٰ رضا، مولانا غلام رضا رضوی، مولانا فیروز حسین، مولانا سرتاج حیدر زیدی، مولانا نذر عباس اور مولانا عادل فراز موجود رہے ۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button