خبریںدنیا

مشرقِ وسطیٰ میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور شہریوں کو لاحق ناقابلِ واپسی خطرات پر ریڈ کراس کا انتباہ

بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ سرخ کی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جنگ کا تسلسل اور اہم بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنانا خطہ کو ایک ایسے مقام تک پہنچا سکتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ توانائی کے وسائل، پانی اور صحت کی سہولیات کو نقصان پہنچنے سے شہری آبادی کو وسیع انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میریانا اشپولیاریچ نے بی بی سی فارسی سے گفتگو میں کہا کہ کمیٹی کی ایک بڑی تشویش جوہری تنصیبات کو ممکنہ نقصان ہے، جس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا: “بنیادی ڈھانچے کے خلاف جنگ دراصل شہریوں کے خلاف جنگ ہے” اور انسانی وقار کے احترام کی ضرورت پر زور دیا۔

خبر رساں ایجنسی ای پی اے کے مطابق، اس بین الاقوامی عہدیدار نے یاد دلایا کہ شہریوں کے حقوق کا احترام اور اہم بنیادی ڈھانچوں کا تحفظ کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سلسلے کا جاری رہنا نہ صرف انسانی بحران کو گہرا کرے گا بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کو بھی شدید خطرے میں ڈال دے گا۔

صلیبِ سرخ نے مزید زور دیا کہ عالمی برادری فوری اقدامات کرے تاکہ بنیادی ڈھانچوں اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، اور سفارتی دباؤ کے ذریعے فریقین کو حملے روکنے اور سیاسی مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ کیا جائے، تاکہ ایک بڑے انسانی المیے سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button