یورپ

ویٹیکن نے کیتھولک افراد کے علاج کے لئے حیوانی اعضاء کے استعمال کی اجازت دے دی

ویٹیکن نے کیتھولک افراد کے علاج کے لئے حیوانی اعضاء کے استعمال کی اجازت دے دی

ویٹیکن نے اعلان کیا ہے کہ عیسائی کیتھولک اپنے امراض کے علاج کے لئے حیوانات کے اعضا، جیسے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سور یا گائے کے اعضا، استعمال کر سکتے ہیں۔

یہ اجازت ویٹیکن کی 88 صفحات پر مشتمل دستاویز میں دی گئی ہے، جس میں زور دیا گیا ہے کہ پیوند کاری معتبر طبی اصولوں کے مطابق ہو اور جانوروں پر ظلم نہ کیا جائے۔

یہ فیصلہ کلیسا کی سابقہ تعلیمات کی توثیق کرتا ہے اور مذہبی لحاظ سے انسان میں حیوانی اعضا کی پیوند کاری پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق دنیا بھر میں حیوانی اعضا کی پیوند کاری اب بھی نایاب ہے، اور انسان میں سور کے گردے کی پہلی پیوند کاری سنہ 2024 میں امریکہ میں انجام دی گئی تھی۔

یہ دستاویز اطالوی، امریکی اور ڈچ ڈاکٹروں کی شراکت سے تیار کی گئی ہے، جس میں سائنسدانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حیوانی پیوند کاری کے عمل کو بامقصد، متوازن اور پائیدار انداز میں آگے بڑھائیں۔

رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت لاعلاج بیماریوں کے علاج میں نئی راہیں کھول سکتی ہے، تاہم اس کے لئے طبی اخلاقیات اور جانوروں کی فلاح کے اصولوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button