یمن

یمن میں انسانی بحران میں شدت؛ 22 ملین سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت

یمن میں انسانی بحران میں شدت؛ 22 ملین سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت

یمن میں بحران بدستور جاری ہے اور انسانی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امدادی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ اس جنگ زدہ ملک میں 22 ملین سے زائد افراد کو انسانی امداد اور جان کے تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔

یہ تعداد بے گھر خاندانوں، بچوں، حاملہ خواتین اور بزرگوں پر مشتمل ہے جو خوراک، صاف پانی، ادویات اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

انسانی امور کے رابطہ دفتر (OCHA) کی ویب سائٹ کے مطابق مسلسل تشدد اور حکومت کی بنیادی خدمات فراہم کرنے میں ناکامی کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ لاکھوں افراد غذائی قلت اور متعدی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کے یمن ہیومینیٹیرین ریسپانس پلان 2026 کے مطابق محدود بجٹ کے باعث امدادی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے امدادی ادارے اہم ترین امداد کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں۔

بہت سے علاقوں میں غذائی تحفظ نہایت کمزور ہے اور لاکھوں افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

رپورٹس یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ صحت اور تعلیم تک رسائی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جبکہ طبی نظام فنڈز، آلات اور عملے کی کمی کے باعث مؤثر خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

بین الاقوامی اداروں نے ایک بار پھر عالمی سطح پر فوری مالی اور عملی امداد بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس بحران کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button