
صومالیہ کی جنوب مغربی ریاست نے موغادیشو میں قائم وفاقی حکومت کے ساتھ اپنے تمام روابط اور تعاون کو مکمل طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس اقدام کو افریقہ کے علاقہ میں واقع اس ملک میں جاری سیاسی بحران کی ایک شدید علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جنوب مغربی ریاست کے حکام نے مرکزی حکومت پر اندرونی معاملات میں مداخلت، خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش اور نامعلوم مسلح گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کیا۔
تاہم، ان الزامات پر وفاقی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اس اعلان کے بعد فضائی کمپنیوں نے موغادیشو اور بیدوا (جنوب مغربی ریاست کا دارالحکومت) کے درمیان پروازیں معطل کر دی ہیں، اگرچہ انسانی ہمدردی اور اقوام متحدہ کی پروازیں بدستور جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت صومالیہ کے پہلے سے کمزور وفاقی ڈھانچے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہے، جہاں ماضی میں بھی مرکزی حکومت اور دیگر ریاستوں کے درمیان اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نیا تنازع انتخابات، آئینی اصلاحات اور اختیارات کی تقسیم جیسے معاملات سے جڑا ہوا ہے، اور اس کے اثرات ملک کے اندرونی استحکام اور علاقائی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔




