
خبر رساں ادارہ "رائٹرز” کے مطابق، نائجیریہ کی فوج نے فضائی حملوں کی مدد سے شمال مشرقی علاقے میں سنی شدت پسند گروہوں کے ایک بڑے حملے کو ناکام بنا دیا۔
اس کارروائی کے نتیجے میں 80 سے زائد حملہ آور، جن میں کئی درمیانی درجے کے کمانڈر بھی شامل تھے، ہلاک ہو گئے۔
یہ فوجی آپریشن مغربی افریقہ میں سرگرم سنی شدت پسند تنظیم بوکو حرام سے وابستہ گروہوں کی جانب سے مسلسل خودکش حملوں اور پرتشدد کارروائیوں کے بعد کیا گیا، جو طویل عرصے سے حکومت اور مقامی آبادی کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
نائجیریہ کی فوج کے مطابق، یہ حملہ علی الصبح کیا گیا، جس میں حملہ آوروں نے ڈرون اور زمینی حملوں کے ذریعہ فوجی اڈے کی دفاعی پوزیشن کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم فوجیوں کی شدید مزاحمت کے باعث انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس جھڑپ میں چار نائجیرین فوجی زخمی بھی ہوئے، جبکہ سرکاری فورسز نے حملہ آوروں سے اسلحہ اور دیگر سازوسامان، جن میں خودکار رائفلیں، راکٹ لانچر اور ڈرون کے پرزے شامل ہیں، قبضے میں لے لئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ نائجیریہ میں سنی شدت پسند مسلح گروہوں کے خلاف لڑائی اب بھی جاری ہے اور حکومت غیر محفوظ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔




