قطر ایر ویز کا احتیاطی اقدام — 17 جہاز اسپین روانہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی اور فضائی حدود میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر، قطر ایر ویز نے اپنے ۱۷ چوڑے پروں والے طیارے احتیاطی طور پر مشرقی اسپین کے شہر تروئِل کے ہوائی اڈے پر منتقل کر دیے ہیں۔ منتقل کیے گئے طیاروں میں A380، A350 اور Boeing 787 جیسے جدید ماڈل شامل ہیں جو کمپنی کی بین الاقوامی پروازوں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔
ایران سے جنگ کے بعد خلیجی فضائی راستوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے ہزاروں پروازیں متاثر ہوئی ہیں اور دوحہ، دبئی و ابو ظہبی جیسے بڑے ہوائی اڈے بھی اس کی زد میں آئے ہیں۔ اس صورتحال نے فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ کرنے، راستے تبدیل کرنے اور بھاری اخراجات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
قطر ایر ویز کے مطابق یہ ایک عارضی اقدام ہے اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے، تمام طیارے واپس خدمت میں لا دیے جائیں گے۔ تاہم کمپنی نے کئی یورپی پروازیں کم از کم مئی ۲۰۲۶ تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حالات کی جلد بہتری کی توقع نہیں۔
تروئِل کا ہوائی اڈہ دراصل ایک خصوصی ذخیرہ گاہ ہے جہاں کی خشک اور نمک سے پاک آب و ہوا طیاروں کو زنگ اور خرابی سے محفوظ رکھتی ہے۔ کووِڈ کے دور میں بھی یہاں ۱۴۰ سے زائد طیارے رکھے گئے تھے۔
ماہرینِ ہوانوردی کا کہنا ہے کہ یہ بحران صرف قطر ایر ویز تک محدود نہیں بلکہ کئی دیگر فضائی کمپنیوں نے بھی اسی طرح کے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ اگر یہ کشیدگی طول پکڑتی رہی تو عالمی سیاحت، تجارت اور ہوائی نقل و حمل پر اس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



