طالبان کے رکن کی برلن میں افغان سفارت کی سربراہی، جرمن حکومت کو اطلاع دیے بغیر تقرری
طالبان کے رکن کی برلن میں افغان سفارت کی سربراہی، جرمن حکومت کو اطلاع دیے بغیر تقرری
طالبان کے ایک رکن نے اچانک اور جرمن حکومت کو آگاہ کئے بغیر برلن میں افغانستان کے سفارت خانے کی سربراہی سنبھال لی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کا کوئی نمائندہ یورپی یونین کے کسی رکن ملک میں افغان سفارت کی ذمہ داری سنبھال رہا ہے۔
اس اقدام نے جرمن حکام اور بین الاقوامی میڈیا میں سفارتی صورتحال کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
جرمن ٹیلی وژن ARD کی رپورٹ کے مطابق، نبراسالحق عزیز، جو طالبان کے رکن ہیں، ابتدائی طور پر افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے عمل میں مدد کے لئے ایک عام قونصلر ملازم کے طور پر برلن آئے تھے، تاہم اسی دوران انہیں طالبان کی جانب سے سفارت کے انتظام کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی۔
خفیہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس وقت ناظم الامور (کاردار) کے طور پر کام کر رہے ہیں اور سفیر کی عدم موجودگی میں کابل میں طالبان کی وزارت خارجہ کے ساتھ سرکاری دستاویزات پر دستخط بھی کر رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، سابق کاردار عبدالباقی پوپل کو عملی طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ بظاہر ان کا نام برقرار رکھا گیا ہے۔
جرمن نشریاتی ادارہ دویچے ویلے فارسی نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ عملہ جاتی تبدیلیاں جرمنی کی وزارت خارجہ کو اطلاع دیے بغیر کی گئی ہیں، اور سرکاری ویب سائٹس پر اب بھی سابق کاردار کا نام درج ہے۔
جرمن حکام نے زور دیا ہے کہ طالبان نے جان بوجھ کر اس تبدیلی کو خفیہ رکھا ہے۔ چونکہ جرمنی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے یہ اقدام سیاسی طور پر نہایت حساسیت کا حامل بن گیا ہے۔
یہ معاملہ ایک بار پھر افغانستان اور میزبان ممالک کے درمیان سفارتی چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے۔




