خبریںہندوستان

عدالت نے کشتی پر افطار کرنے والے 14 مسلمانوں کی ضمانت مسترد کر دی

اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ایک عدالت نے پیر کے روز چودہ مسلمان مردوں کی ضمانت کی درخواست ٹھکرا دی۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے گنگا ندی میں ایک کشتی پر افطار پارٹی کا اہتمام کیا تھا۔ عدالت نے اس معاملے کو "سنگین نوعیت” کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرائم ناقابلِ ضمانت ہیں۔

مکتوب میڈیا کے مطابق، ان لوگوں پر بھارتیہ نیائے سنہیتا اور واٹر ایکٹ کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا — یہ اس وقت ہوا جب کشتی پر روزہ افطار کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور مذہبی جذبات مجروح ہونے کا شور مچا۔ بعد میں بھتہ خوری اور فحش مواد پھیلانے جیسے اضافی الزامات بھی لگا دیے گئے۔

یہ سارا قصہ اس وقت شروع ہوا جب گنگا میں کشتی پر روزہ افطار کرتے ہوئے مردوں کی ویڈیوز سامنے آئیں، جس کے بعد ہندوتوا گروہوں کی طرف سے نفرت آمیز مہم چھیڑ دی گئی۔

عدالت نے تمام ملزمان کو ۱۴ روز کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔ دفاعی وکلاء نے دلیل دی کہ ان مردوں کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے، لیکن عدالت نے الزامات کو کافی سنگین سمجھتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button